ملتان( سٹاف رپورٹر) ملتان کے تمام تفریحی پارک خواتین اور بچوں کیلئے محفوظ بنائے جانے کے تمام تر اقدامات کے باوجود اوباش نوجوانوں کی حرکات جاری رہتی ہیں مگر ملتان کا واحد پارک کینٹ گارڈن جوکہ شہریوں اور خصوصی طور پر خواتین کیلئے بہت ہی محفوظ تصور کیا جاتا تھا اور ہائی سکیورٹی زون میں ہونے کی وجہ سے یہاں کسی کو پر مارنے کی جرات نہ تھی مگر اب وہ بھی محفوظ ہونے کے حوالے سے سوالیہ نشان بن گیا ، دو روز قبل چوک شہیداں کا ایک تاجر عبدالرحمٰن اپنی بیٹیوں اور اہلیہ کے ہمراہ کینٹ گارڈن میں تفریح کیلئے گیا تو اس کی 14 سالہ بیٹی جھولے جھولنے لگی اس دوران گراس منڈی کی ایک فیملی میں موجود خاتون نے اسے دھکا دے کر نیچے گرادیا اور بچی کے احتجاج کرنے پر اس پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ بچی کی چیخیں سن کراسکی ماں بھاگتی ہوئی آئی تو دیکھا کہ دو عورتیں بچی پر بری طرح تشدد کررہی تھی ۔ معاملہ ملٹری پولیس کے نوٹس میں لایا گیا ۔ پارک انتظامیہ بھی پہنچ گئی تو وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ بچی کو ناجائز طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ملٹری پولیس کے کہنے پر 15 پر کال کی گئی تو پولیس پہنچی مگر کسی بھی قسم کی کارروائی کی بجائے مدعی اور اسکی بچی کو تھانہ کینٹ لے گئے۔جہاں تنویر نامی محرر نے صلح کرادی اور کہا کہ بات ختم کرو ورنہ تم پر مقدمہ درج ہوگا۔ عبدالرحمان نے اپنی بیٹی کا تشدد زدہ چہرہ دکھایا اور کارروائی کا کہا تو تنویر محرر نے موبائل چھین کر انہیں حوالات میں بند کردیاجو چار گھنٹے تک حوالات میں بند رہا۔ پھر رات11 بجے حوالات سے نکال کر کہا کہ موبائل پر بیان ریکارڈ کرائو کہ ہماری صرف تکرار ہوئی اور تکرار پر بات ختم ہوگئی۔ میں کسی قسم کی کارروائی نہیں کرنا چاہتا ورنہ تم اور تمہاری بیٹی پر بھی مقدمہ درج ہوگا۔ بیٹی پر مقدمے کا سن کر عبدالرحمان گھر آگیا جبکہ اسکا شناختی کارڈ ، پرس و دیگر سامان ابھی بھی پولیس کے پاس ہے۔






