جھبیسویں آئینی ترمیم پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

جھبیسویں آئینی ترمیم پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

26ویں آئینی ترامیم کے معاملے پر مشاورت کے لیے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نواز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچ گئے ہیں۔ مجوزہ 26 ویں آئینی ترامیم کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمن ن لیگ کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچ گئے ہیں۔نواز شریف آج جاتی امرا میں فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے جس میں مجوزہ 26 ویں آئینی ترامیم پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اسی حوالے سے گزشتہ روز بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں چار گھنٹے طویل ملاقات کے بعد آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق کر لیا تھا۔اس ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ کوشش ہو گی آئینی ترامیم پر ن لیگ کے ساتھ بھی اتفاق ہو جائے جب کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ اتفاق رائے تک پہنچنے میں بلاول بھٹو کا اہم کردار ہے۔فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے ۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سوال کیا تھا کہ آپ کی بلاول سے ملاقات میں آئینی عدالت پر اتفاق ہوا، یا آئینی بینچ پر؟ جس پر مولانا نے سوال گھما دیا اور ہنستے ہوئے بولے تھے کہ بیٹا ہم نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں