تہران،تل ابیب،بیروت،واشنگٹن(نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں ایران اسرائیل جنگ پھیل گئی۔دونوں ممالک کے ایکدوسرے پر حملے جاری ہیں۔ایران نے 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیاہےجبکہ سیدعلی خامنہ ای کے بیٹےمجتبیٰ خامنہ ای کوایران کانیا سپریم لیڈر منتخب کرلیاگیا۔ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ امریکا نے ایرانی آبدوز سمیت 17 بحری جہازتباہ کرنے کا دعویٰ کیاہے، آبدوزپرحملےمیں80 ایرانی فوجی شہیدہوگئے، وزیر جنگ نےکہاہےکہ امریکا جیت رہا ہے، مزید فوجی آرہے ہیں۔ایران نےکہاہےکہ اسرائیل نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا تو پوری دنیا میں اسرائیلی سفارت خانوں کو نشانہ بنائینگے، حزب اللہ نےجنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا،ترک وزارت دفاع نےکہاہےکہ ترکیے کی فضائی حدود کی جانب آنیوالا ایرانی میزائل گرادیا ۔امریکا نے ایران میں تقریباً 2 ہزار اہداف پر حملےکادعویٰ کیاہے،تہران نےجوابی کارروائی کرتےہوئے سعودی عرب میں امریکی سی آئی اے سٹیشن تباہ کردیا،دبئی میں امریکی قونصل خانے پرڈرون حملے سے عمارت میں آگ لگ گئی، اسرائیلی وزیردفاع نے دھمکی دی ہےکہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے۔تفصیل کےمطابق اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈرمنتخب کرلیا گیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اسمبلی آف ایکسپرٹس کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم ایران کے سرکاری حکام کی جانب سے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔اس سے پہلے اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اٹھاسی رکنی مجلس خبرگان رھبری نئے سپریم لیڈرکا انتخاب آن لائن کررہی ہے اور یہ معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔مجلس خبرگان رھبری کی قم میں واقع عمارت کو امریکا اور اسرائیل نے حملے کرکے تباہ کردیا تھا تاہم عمارت پہلے ہی خالی کرالی گئی تھی، اس لیے جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پرمجلسِ خبرگا یعنی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8 سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین تہران میں بڑے تعزیتی اجتماع کے بعد مشہد میں ہوگی۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی، ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایران کی جانب سے اسرائیل کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا تو ایران کی جانب سے پوری دنیا میں اسرائیلی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایران نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے کسی بھی ملک میں اس کے سفارت خانوں کو نشانہ نہیں بنایا، اسرائیل ہمارے دیگر ممالک کے لیے احترام کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران سےجنگ میں امریکا جیت رہا ہے، مزید فوجی بھی آرہے ہیں، ایک ہفتے میں ایرانی حملوں پر مکمل قابو پا لیں گے۔پیٹ ہیگستھ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم انہیں مار رہے ہیں اور وہ گر رہے ہیں، ایران پر مزید حملوں کی نئی لہر جلد شروع کریں گے، امریکا درست نشانہ لگانے والے گریویٹی بموں کا لامحدود ذخیرہ استعمال کرے گا۔امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں مقامی فضائی برتری قائم کرلی ہے، ہم اب زمینی راستوں میں توسیع شروع کریں گے۔جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں اور ڈرون کی تعداد میں کمی آئی ہے، نقصانات کا تخمینہ لگانے میں ابھی وقت لگے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کے انفرااسٹرکچر اور بحری صلاحیتوں پر حملے جاری رکھیں گے۔لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان کے شہروں اور دیہاتوں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں حزب اللہ کے مزاحمت کاروں نے جنوبی لبنان کے حولا گاؤں میں ایک اسرائیلی ٹینک اور ایک بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا۔ادھرسری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز کے حملے کی ویڈیو سامنے آگئی۔امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ایرانی بحری جہاز پر تارپیڈو ٹکرانے سے زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے امریکا کی جانب سے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایرانی جنگی جہاز کو لگتا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا لیکن ایسا نہیں تھا۔اس سے قبل غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز نے حملہ کیا۔ایرانی جنگی جہاز بھارت میں جنگی مشقیں مکمل کرنے کے بعد ایران واپس لوٹ رہا تھا جسے سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکن وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایرانی جہاز آئرس ڈینا (IRIS Dena) کے ڈوبنے کی اطلاع پر اس کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے سری لنکن بحریہ کو روانہ کیا گیاجب تک امدادی جہاز حادثے کے مقام پر پہنچا ایرانی جنگی جہاز ڈوب چکا تھا۔سری لنکن وزیر خارجہ کے مطابق اب تک جہاز سے 30 زخمی سیلرز کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری جہازپر امریکی حملے میں80 افرادجاں بحق ہوئے۔ترکیے کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ترک فضائی حدود کی جانب آنے والے ایرانی میزائل کو نیٹو کے فضائی دفاع نے مشرقی بحیرۂ روم میں تباہ کر دیا۔ترک وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل شام اور عراق سے گزرتے ہوئے ترک فضائی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا۔وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی اپنے خلاف کسی بھی اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہےجبکہ تمام فریقوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ادھرشہید آیت اللہ خامنہ ای کے سینئر مشیر محمد مخبر نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ کبھی مذاکرات نہیں کرےگا اور ایران کے امریکیوں کے ساتھ کسی بھی شکل میں کوئی رابطے نہیں ہیں۔ادھرامریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہےکہ امریکی فوج نے ایران میں تقریباً 2000 اہداف پر حملے کیے ہیں۔سینٹ کام کے مطابق امریکا نے ایران کی آبدوز سمیت 17 بحری جہازوں کو تباہ کیا، خلیج عرب، ہرمز اور خلیج عمان میں اب کوئی بھی ایرانی بحری جہاز موجود نہیں۔امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے 500 بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار سے زائد ڈرون داغے گئے۔ادھرایران نے سعودی عرب میں واقع امریکی سفارتخانے میں سی آئی اے سٹیشن تباہ کردیا۔ریاض میں واقع سی آئی اے کے مرکز کو مشتبہ ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سےعمارت کی چھت جزوی تباہ ہوگئی۔یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملے میں سی آئی اے ایجنٹ یا اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق سی آئی اے ہی نے حملے کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کے گھر کا تعین کیا تھا۔ادھردبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملے سے قونصل خانے کی عمارت میں آگ لگ گئی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی قونصل خانے کی عمارت میں لگی آگ پر ہنگامی ٹیموں نے بر وقت آگ پر قابو پالیا، دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔دبئی حکومت کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔اماراتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اب تک 1000 سے زائدحملوں کا سامنا کرناپڑا، دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ادھر قطری وزارت دفاع کے مطابق ایران نے قطرکی جانب 2میزائل داغے، ایک میزائل نے امریکا کے زیرانتظام العدید ائیربیس کونشانہ بنایا، اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہاکہ دبئی میں امریکی قونصل خانے سے ملحقہ پارکنگ ایریا میں ڈرون حملہ ہوا، امریکی سفارتی دفاتربراہ راست حملوں کی زد میں ہیں، جنگ کے آغاز سے اب تک 9 ہزار امریکی مشرق وسطیٰ سے نکل چکے، ایک ہزار 600 امریکی شہریوں نے مشرق وسطیٰ سے نکالنے میں مدد کے لیے اپیل کی ہے۔ادھراسرائیلی وزیر وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین کو نشانہ بنانےکے لیے اسرائیلی وزیراعظم اور انہوں نے فوج کوتیار رہنےکی ہدایت کردی ہے۔ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں 160امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا، حملےمیں 100 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے جواب میں کی گئیں، کویت میں تعینات امریکی افواج کو درجنوں ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جبکہ بحرین میں امریکی اڈے پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کئے گئے۔پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بحیرہ ہند میں 650 کلومیٹر دور ایندھن بھرنے والے امریکی بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، ایرانی فوجی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب کی زمینی افواج نے باضابطہ طور پر جنگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے بیک وقت 230 حملہ آور ڈرون لانچ کئے۔پاسدارانِ انقلاب نے اہم اسرائیلی کمان مراکز کو بھی نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کے 16 قصبوں پر حملے کر دیئے، لبنانی شہر بالبیک پر حملے میں 10 افراد شہید، جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے بالبیک میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، درجنوں افراد ملبے تک دبے ہونے کا خدشہ ہے۔اسرائیل نے لبنان میں ہزمیہ کے علاقے میں واقع ہوٹل پر بھی بمباری کی، ہوٹل پر بغیر وارننگ کے حملےکئے گئے۔عرب میڈیا کے مطابق لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 50 سے زائد افراد شہید، 350 زخمی ہو چکے ہیں۔







