ملتان (وقائع نگار)جنک فوڈ،ناقص خوراک اورلائف سٹائل میں تبدیلی کے باعث11ماہ میں 48لاکھ ملتانی ہسپتال پہنچ گئے۔ ملتان کے سرکاری ہسپتالوں میں رواں سال کے گیارہ ماہ میں 41 لاکھ سے زائد مرد و خواتین اور سات لاکھ بچوں کا علاج کیا گیا ۔جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے طبی مرکز نشتر ہسپتال سمیت ملتان کے سرکاری ہسپتالوں میں رواں سال (2025) کے پہلے گیارہ ماہ میں مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف نشتر ہسپتال میں 22 لاکھ، شہباز شریف ہسپتال میں 10 لاکھ اور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 9 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا، جبکہ چلڈرن ہسپتال میں 7 لاکھ بچوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ مجموعی طور پر ان ہسپتالوں میں 48 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج ہوا جو کہ علاقے میں صحت کے بڑھتے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں کی اس بڑی تعداد کی سب سے بڑی وجہ بدلتے لائف اسٹائل، جنک فوڈ کا بڑھتا استعمال اور ناقص خوراک ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے دل کی بیماریاں، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر طرز زندگی سے منسلک امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔نشتر ہسپتال ملتان جو جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تدریسی ہسپتال ہے، میں رواں سال کے گیارہ ماہ میں37 ہزار149 آپریشنز کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ہسپتال کی مصروفیت اور مریضوں کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان میں دل کے سنگین مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا۔ یہاں 1980 مریضوں کے اوپن ہارٹ بائی پاس آپریشنز کیے گئے، جبکہ 2640 افراد کی اینجیوگرافی اور اینجیو پلاسٹی کی گئی۔ ماہرین کے مطابق دل کی بیماریوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر صحت بخش خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی شامل ہے۔چلڈرن کمپلیکس ملتان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ گیارہ ماہ میں 7 لاکھ بچوں کا علاج کیا گیا جن میں سے 8250 بچوں کی پیچیدہ سرجریز کامیابی سے انجام دی گئیں۔ بچوں میں سانس کی بیماریاں، انفیکشنز اور غذائی کمی سے متعلق امراض سب سے زیادہ رپورٹ ہوئے۔محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی اس ریکارڈ تعداد کے باوجود ڈاکٹرز اور پیرا
میڈیکل سٹاف دن رات خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں، جنک فوڈ سے گریز کریں اور باقاعدگی سے ورزش کو معمول بنائیں تاکہ طرز زندگی کی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔یہ اعداد و شمار ملتان اور جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہسپتالوں کی توسیع، جدید آلات اور عملے کی بھرتی کو ترجیح دی جائے۔







