جنوبی پنجاب میں جعلی کتابوں کا کاروبار اور حکومتی خاموشی

جنوبی پنجاب میں جعلی کتابوں کا کاروبار اور حکومتی خاموشی


جنوبی پنجاب میں بھارتی مصنفین کی جعلی کتابوں کی اشاعت نے ایک سنگین مسئلے کو جنم دیا ہے جو نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کر رہا ہے بلکہ طلباء کے مستقبل پر بھی منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ ملتان سمیت کئی بڑے شہروں میں جعل سازی کا یہ دھندہ نہ صرف فروغ پا رہا ہے بلکہ اس کے پیچھے مافیا کی مضبوط گرفت بھی نظر آتی ہے جو مقامی پبلشروں کے ساتھ مل کر طلباء و طالبات کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔حیرت انگیز طور پر، اس بڑے پیمانے پر غیر قانونی کاروبار پر حکومتی ادارے اب تک خاموش ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم برائے پنجاب، اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے حکام کی اس معاملے پر خاموشی سے نہ صرف شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر کار ان اداروں کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا یہ ادارے اپنے فرائض سے غافل ہیں یا پھر وہ کسی دباؤ میں ہیں؟ایک طرف تو حکومت تعلیمی اصلاحات کی بات کرتی ہے، لیکن دوسری طرف ایسے سنگین جرم پر آنکھیں بند کر لینا تعلیمی میدان میں اصلاحات کی دعووں کی نفی کرتا ہے۔ جعل سازی کے اس کاروبار سے نہ صرف معاشرتی اور معاشی نقصان ہو رہا ہے بلکہ یہ تعلیمی نظام کی بنیادی ساخت کو بھی کمزور کر رہا ہے۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ جعل سازی کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں اور اس دھندے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو بھی مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی جعل سازی کے خلاف مؤثر طریقے سے کارروائی کر سکیں۔یہ وقت حکومتی اداروں کی طرف سے سختی اور فعالیت دکھانے کا ہے تاکہ تعلیمی میدان میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ جعل سازی کے اس دھندے کا خاتمہ نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ یہ طلباء کے مستقبل کو بھی محفوظ بنائے گا۔

شوگر انڈسٹری – حکومت کا قابل تعریف اقدام

حکومت کا چینی برآمد کرنے کی پالیسی کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ ایک اہم وقت میں آیا ہے جب چینی مل مالکان کے مارکیٹ کو مصنوعی طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت بے شمار پاکستانی گھرانوں کی معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ عید کے بعد ہونے والی میٹنگ میں زیر بحث آنے والی تجویز شدہ کنٹرول شدہ چینی برآمد پالیسی قومی مفادات کو نجی منافع پر ترجیح دینے کی حکمت عملی اور ضرورت کو ظاہر کرتی ہے- خاص طور پر یہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے چینی پر اپنی جارہ داری کے لیے سخت لابنگ کی کوششوں کے پتا چلنے پر حکومت کا اٹھایا جانے والا قابل تعریف اقدام ہے۔ حکومت کا 250,000 میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا منصوبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت قومی مفادات کو اہمیت دے رہی ہے۔ اس فیصلے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ چینی مل مالکان کی طرف سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مارکیٹ میں قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ شوگر مل مالکان حکومت سے 10 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے تاکہ وہ شوگر کے اپنے ذخائر کو اجارہ دار پوزیشن میں لا سکیں اور قیمتوں کو مرضی کے مطابق چڑھا سکیں- اس سیزن میں چینی صنعت کی صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر 7.575 ملین میٹرک ٹن چینی دستیاب ہے، جس میں پیداوار اور پہلے سے موجود اسٹاک شامل ہیں، اور 2.572 ملین میٹرک ٹن پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھی کافی ذخیرہ موجود ہے جو دسمبر 2024 تک ملکی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ تاہم، چینی مل مالکان کا زیادہ برآمدات کے لئے دباؤ، ملکی مفاد کے مطابق نہیں ہے۔ یہ ایک گہری اور زیادہ نظامی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں یہ ادارے صرف مارکیٹ کی قیمتوں کو متاثر نہیں کرتے بلکہ سپلائی چین پر اپنا غیر منصفانہ کنٹرول بھی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کا محتاط رویہ بے سبب نہیں ہے۔ دیگر ممالک کی طرح، جیسے کہ بھارت نے بعض خوراک کی اشیاء کی برآمد پر پابندی لگائی ہے تاکہ داخلی قلت سے بچا جا سکے، پاکستان نے بھی حال ہی میں پیاز اور کیلے کی برآمد پر پابندیاں لگائیں ہیں۔ یہ اقدامات مقامی مارکیٹ قیمتوں کو مستحکم کرنے اور اہم اشیاء کو عام صارفین کے لئے قابل رسائی اور معقول بنانے کے کوششوں کا حصہ ہیں۔لہذا، چینی برآمدات کو سختی سے کنٹرول کرنے کا فیصلہ نہ صرف ایک معاشی تدبیر ہے بلکہ ایک اخلاقی فیصلہ بھی ہے۔ یہ اس بات کی تسلیم ہے کہ عوام کی بھلائی چند طاقتور افراد کی خواہشات کی قید میں نہیں رہ سکتی۔ اس طرح، حکومت کو اس پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے فیصلے پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیے۔ اس میں چینی ملوں کی برآمدی حدود کی تعمیل کی سخت نگرانی، ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ کی کوششوں کے خلاف سخت کارروائی، اور مارکیٹ کو متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا نفاذ شامل ہے۔مزید برآں، حکومت کو چینی صنعت میں شفافیت اور جوابدہی کے میکانزم کو مضبوط بنانے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ یہ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی نگرانی کی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر اور یقینی بنا کر کہ پیداوار، اسٹاک، اور کھپت کی شرحوں کے بارے میں درست اور بروقت ڈیٹا عوام کے لئے دستیاب اور تصدیق شدہ ہو، حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف مارکیٹ کے غلط استعمال کو روکیں گے بلکہ ایک زیادہ مسابقتی اور صحت مند مارکیٹ ماحول کو فروغ دیں گے۔یہ ضروری ہے کہ حکومت نہ صرف اس فیصلے پر مضبوطی سے قائم رہے بلکہ اس پالیسی کے اسباب اور متوقع فوائد کو عوام کے سامنے واضح طور پر بیان کرے۔ عوامی آگاہی اور ان اقدامات کے لئے حمایت بنانا ضروری ہے کیونکہ اس سے ایک ایسا ماحول بنتا ہے جہاں چینی مل کارٹلز کی چالاکیاں نہ صرف بے نقاب ہوتی ہیں بلکہ فعال طور پر مسترد کی جاتی ہیں۔خلاصہ یہ کہ، کنٹرول شدہ چینی برآمد پالیسی پاکستان کی زرعی پالیسی اور اس کے وسیع معاشی منظرنامے کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ چینی مل مالکان کی کارٹلائزیشن اور درندہ صفت عمل کے خلاف فیصلہ کن اقدام اٹھا کر، حکومت صارفین کی حفاظت کر سکتی ہے، مارکیٹ کو مستحکم کر سکتی ہے، اور منصفانہ اور مساوی معاشی عملیات کے لئے اپنی وابستگی ظاہر کر سکتی ہے۔ اس جنگ کو عزم اور چوکسی کے ساتھ لڑا جانا چاہیے، یقینی بناتے ہوئے کہ بہت سے لوگوں کے مفادات چند لوگوں کے مفادات پر بھاری ہوں۔

پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں ایڈہاک ازم کی پالیسی

پنجاب کے آٹھ تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینوں کی عدم تعیناتی اور کمشنرز کو عارضی طور پر ان کے فرائض سونپنے کا عمل نہ صرف تعلیمی اداروں میں انتظامی بحران کا باعث بن رہا ہے بلکہ یہ رجحان پنجاب کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے بھی شدید خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔جولائی 2022 سے جاری اس عمل کے نتیجے میں نہ صرف تعلیمی بورڈز کے انتظامی دھارے میں خلل پڑا ہے، بلکہ اس نے ظاہر کیا ہے کہ حکومت کیسے غیر مستقل بنیادوں پر پالیسیوں کا اطلاق کرکے طلبا کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ تعلیمی بورڈز کی کارکردگی براہ راست ان کی قیادت پر منحصر ہوتی ہے، اور جب یہ قیادت ایڈہاک بنیادوں پر فراہم کی جاتی ہے، تو نتیجتاً انتظامیہ میں استحکام کا فقدان ہوتا ہے۔لاہور بورڈ میں حالیہ نقل سکینڈل اور اس کے نتیجے میں چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات کی برطرفی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایڈہاک پالیسیاں کس طرح محکمہ تعلیم کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ ان عہدوں پر مستقل بنیادوں پر تعیناتیاں نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف انتظامی بحران پیدا ہوا ہے بلکہ امتحانی نظام میں شفافیت اور اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے اور یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ بہت سارے عوامی اہمیت کے حامل شعبوں میں بے سمتی اور عارضی پن مستقل منظر نامہ بنتا جا رہا ہے۔ کیا پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز شریف چیف سیکرٹری پنجاب سے یہ پوچھ سکتی ہیں کہ ایک سال کے دوران وہ اب تک آٹھ تعلیمی بورڈز میں مستقل چئیرمینوں کی تعیناتی کے لیے کمیٹی کیوں نہیں بنا پائے؟ ( ایسے سوال تو لوگ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں مستقل وی سی صاحبان کی تعیناتیاں نہ ہونے کے مسئلے پر حکومت پنجاب، گورنر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بھی کر رہے ہيں، کیا ایسے سوالات متعلقہ حکام کے لیے کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں؟ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مختلف شعبوں میں اضافی چارج دینے کا عمل نہ صرف ان کی اصل ذمہ داریوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے بلکہ اس سے ان شعبوں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ان اداروں کی صلاحیت کو محدود کرتے ہیں اور طلباء کے تعلیمی معیار اور مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سنجیدہ مسئلے کا فوری حل نکالے، تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینوں کی تعیناتی یقینی بنائے، اور تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ انتظامی بحران کو ختم کرنا اور تعلیمی معیار کو بلند کرنا اب حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں