ملتان(قوم نیوز)جنوبی پنجاب کی لوکل گورنمنٹس کی سال 2022-23 کی آڈٹ رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کے سنگین معاملات سامنے آئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 12 ارب 87 کروڑ روپے سے زائد کے ریکارڈ آڈٹ کے لیے پیش نہیں کیے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 14 کروڑ روپے سے زائد کی خوردبرد اور فراڈ کے کیسز بھی سامنے آئےجبکہ 9 ارب 14 کروڑ روپے سے زائد کی انتظامی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ کے دوران 101 ارب روپے سے زائد کے دیگر مالی معاملات مشکوک قرار پائے۔پنشن ادائیگیوں میں بے ضابطگیوں کے کیسز بھی رپورٹ میں شامل ہیںجن کی مالیت قریباً 9 کروڑ 58 لاکھ روپے بنتی ہے۔ مجموعی طور پر 53 مختلف کیسز میں اربوں روپے کے آڈٹ ریکارڈ کی عدم فراہمی پر شدید تحفظات اٹھائے گئے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹس میں داخلی کنٹرول کا نظام ناکام رہا اور کئی اضلاع میں سرکاری فنڈز کا ناجائز استعمال ہوا۔ علاوہ ازیںکوئی مؤثر انٹرنل آڈٹ ڈیپارٹمنٹ قائم نہ ہونے کا انکشاف بھی ہواجس کی وجہ سے بدانتظامی اور غفلت مالی بے ضابطگیوں کی بڑی وجہ بنی۔آڈٹ کے دوران 71 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی تاہم صرف 11 کروڑ 45 لاکھ روپے کی ریکوری کی تصدیق ہو سکی۔ جنوبی پنجاب میں 128 لوکل گورنمنٹ اداروں کا آڈٹ کیا گیا۔رپورٹ میں ذمہ داران کے تعین، رقوم کی وصولی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ اس کے علاوہ پنجاب پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزیوں اور لوکل گورنمنٹس میں اندرونی کنٹرول اور مانیٹرنگ سسٹم کو بہتر بنانے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آڈٹ، پنجاب (جنوبی) کی مالی سال 2022-23 کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں مقامی حکومتوں کے کھاتوں میں سنگین مالی بے ضابطگیوں، ریکارڈ کی عدم فراہمی اور فنڈز کے غلط استعمال کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ضلعی حکومت جنوبی پنجاب، ملتان کے پاس آڈٹ سال 2022-23 کے دوران 77 افسران و ملازمین پر مشتمل افرادی قوت موجود تھی جبکہ سالانہ بجٹ 180.380 ملین روپے تھا۔یہ رپورٹ ڈی جی اے، ضلعی حکومتیں، پنجاب (جنوب)، ملتان کی جانب سے اختیار کے تحت کیے گئے آڈٹ (Compliance with Authority Audit) کے آڈٹ مشاہدات پر مشتمل ہے جو پنجاب (جنوب) کے 05 میٹروپولیٹن کارپوریشنز، 02 میونسپل کارپوریشنز، 45 میونسپل کمیٹیز، 16 ڈسٹرکٹ کونسلز اور 60 تحصیل کونسلز کے مالی حسابات پر مالی سال 2020-21 اور 2021-22 کے لیے کیے گئے جبکہ بعض اداروں کے سابقہ مالی سالوں کے حسابات بھی اس میں شامل ہیں۔آڈٹ کے دوران مجموعی طور پر 71,486.697 ملین روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ 53 مختلف کیسز میں 12,870.152 ملین روپے مالیت کا ریکارڈ آڈٹ ٹیم کو فراہم نہیں کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق 3 کیسز میں 14.208 ملین روپے کی خورد برد اور فراڈ کے شواہد ملے ہیں ۔ 368 کیسز میں 9,145.117 ملین روپے کی محکمانہ اور طریقہ کار سے متعلق بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئی ہیں ۔ دیگر 472 کیسز میں 101,424.282 ملین روپے کی خطیر رقم سے وابستہ مختلف مالیاتی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں میں اندرونی کنٹرول کا نظام انتہائی غیر تسلی بخش ہے ۔ رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے ملازمین کو غیر قانونی طور پر عوامی فنڈز کی ادائیگی اور فنڈز کی خورد برد جیسے سنگین واقعات پیش آئے ۔ مزید برآںکسی بھی مقامی حکومت نے اپنا علیحدہ ‘انٹرنل آڈٹ ڈیپارٹمنٹ قائم نہیں کیا ۔ڈائریکٹوریٹ نے جنوبی پنجاب کے 17 اضلاع میں میٹروپولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کمیٹیوں، ڈسٹرکٹ کونسلز اور دانش سکولوں سمیت 128 فارمیشنز کا آڈٹ کیا ۔ آڈٹ کے دوران مجموعی طور پر 43 فیصد اخراجات اور 39 فیصد وصولیوں کا معائنہ کیا گیا ۔آڈٹ حکام نے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (PAOs) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ۔خورد برد اور مالی نقصانات کی انکوائری کر کے ذمہ داری کا تعین کیا جائے ۔پنجاب پروکیورمنٹ رولز (PPRA) کی پاسداری کرتے ہوئے عوامی رقم کا درست استعمال یقینی بنایا جائے ۔پنشنرز کے لیے ‘لائف سرٹیفکیٹ اور ‘غیر شادی شدہ ہونے کے سرٹیفکیٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔







