ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب میں اور کوئی چیز سستی ہو نا ہو ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں سستی ہو گئیں۔ جنوبی پنجاب کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں اعلیٰ تعلیم کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی تحقیقی ڈگریاں بھی سوالیہ نشان بن گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں ایک ایم فل کے VIVA کے دوران ایسے انکشافات سامنے آئے جنہوں نے پورے تعلیمی نظام کی ساکھ کو ہلا کر رکھ دیا۔ VIVA کے دوران ایک طالب علم اور ایک طالبہ نے بیرونی ممتحن کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کا تھیسز انہوں نے خود تیار نہیں کیا بلکہ کسی اور سے لکھوایا ہےجبکہ انہیں اپنے تحقیقی کام کی بنیادی معلومات تک حاصل نہیں تھیں۔ حیران کن طور پر اس موقع پر انٹرنل سپروائزر نے شرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے بیرونی ممتحن سے یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی کہ طلبہ ملازمت پیشہ ہیں، انہیں وقت نہیں ملتا، لہٰذا ’’مہربانی‘‘ کر دی جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز اس انداز میں تیار اور منظور ہو رہے ہیں تو اس ملک میں تحقیق کا مستقبل کیا ہوگا؟ جب سپروائزر اپنے طلبہ کے مقالے باقاعدہ چیک تک نہ کریں اور VIVA محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے، تو پھر اعلیٰ تعلیم کے دعوے کس بنیاد پر کیے جا سکتے ہیں؟ تعلیمی حلقوں میں یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں صرف سرکاری مراعات کے حصول کا ذریعہ بن چکی ہیں؟ حکومت پنجاب کی جانب سے ایم فل پر پانچ ہزار اور پی ایچ ڈی پر دس ہزار روپے ماہانہ الاؤنس دیے جانے کے بعد کیا یہ رجحان بڑھا ہے کہ لوگ بغیر تیاری اور تحقیق کے محض ڈگری حاصل کر کے مالی فائدہ اٹھائیں؟ اگر کسی طالب علم کے پاس تحقیق کے لیے وقت ہی نہیں، تو پھر وہ اس ڈگری کا مقصد کیا سمجھتا ہے؟ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اساتذہ حضرات اپنے پروفائل کو مضبوط بنانے اور ترقی کے مراحل طے کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ریسرچ اسکالرز رجسٹرڈ کر لیتے ہیں، مگر معیار پر توجہ دینے کے بجائے تعداد بڑھانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نتیجتاً کوالٹی کی جگہ کوانٹٹی لے لیتی ہے اور تحقیقی معیار شدید متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی محض ڈگریاں نہیں بلکہ سنجیدہ اور طویل تحقیقی عمل کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر یہی ڈگریاں بغیر محنت اور جانچ کے بانٹی جاتی رہیں تو نہ صرف حقیقی محنت کرنے والے طلبہ و طالبات کی حق تلفی ہوگی بلکہ ملک کا علمی وقار بھی مجروح ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ جامعہ کی انتظامیہ فوری طور پر اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے، سپروائزرز اور ممتحنین کا احتساب کیا جائے اور VIVA کے عمل کو سخت اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ بصورت دیگر یہ روش نہ صرف تعلیمی نظام کو کھوکھلا کرے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دے گی۔







