گزشتہ دنوں ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں سابقہ ایم ایس ٹی ایچ کیو ہسپتال خان پور ڈاکٹر حسن محمود کے کم سن بچوں گیارہ سالہ شایان سات سالہ سبحان کو علی الصبح ڈرائیور کے ساتھ گاڑی پر سکول جاتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کی مصروف شاہراہ پر اغوا کر لیا گیا،واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج آتے ہی یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے شہر، ضلع اور بعد ازاں سوشل میڈیا کے توسط پورے ملک میں پھیل گئی، معصوم بچوں کی تصاویر وائرل ہوئیں اور والد کی طرف سے میڈیا پر یہ اپیل کی گئی کہ چھوٹا بچہ سانس کے مرض میں مبتلا اور چھ گھنٹے بعد میڈیسن استعمال کرتا ہے تو ہر طبقہ فکر کی طرف سے ان کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ زور پکڑ گیا.خان پور سے رکن قومی اسمبلی شیخ فیاض الدین نے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھادیا اور سپیکر قومی اسمبلی پر زور دیا کہ اس معاملے کو جلد حل کروایا جائے اور رحیم یار خان کے وہ نو گو ایریاز جہاں اغوا کار روپوش ہو جاتے ہیں جن کا تذکرہ گزشتہ کالم میں بھی میں نے کیا تھا وہاں آپریشن کیا جائے، رحیم یار خان شیخ زاید ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ہڑتالی کیمپ لگا دیا، چیمبر آف کامرس، انجمن تاجران، سول سوسائٹی کی جانب سے بھرپور احتجاج دیکھنے میں آیا، پولیس کی جانب سے بھی اس کیس کو حل کرنے کے لیے بھرپور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا، پورے ڈویژن کی ناکہ بندی کر کے ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا، ڈی پی او رضوان گوندل موقع پر پہنچے ورثا کو تسلی دی بچوں کی جلد بازیابی اور ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کروائی، پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اپنے انٹیلی جنس اور آئ ٹی نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے دوران ہی اغوا شدہ بچوں کو احمد پور شرقیہ سے بازیاب کرا لیا، اس پر بچوں کے والدین تو یقیناً شکر گزار تھے ہی پورے ضلع کی عوام نے پولیس کی اس مستعدی سے اغوا کاروں کو ٹریس کرنے کے عمل کو سراہا اور شہری پھولوں کے گلدستے لے کر ڈی پی او آفس اور ڈاکٹر حسن کے گھر پہنچ گئے. بچوں کے گھر پہنچنے کے بعد آئ جی پنجاب عثمان انور بھی خان پور تشریف لائے اور ڈاکٹر حسن کو بچوں کی بخیریت بازیابی پر مبارکباد دی بچوں کے ورثاء نے بھی آئ جی صاحب کا اس کیس میں خصوصی دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کیا، آئ جی پنجاب نے بعد ازاں رحیم یار خان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کچے کے علاقے میں دیگر اغوا کاروں اور ڈاکووں کے خلاف آپریشن کے آغاز کا حکم دے دیا جو فوراً شروع کر دیا گیا اور تادم تحریر جاری ہے ڈی پی او رضوان گوندل خود اس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور اب تک کئ ڈاکو ہلاک اور ایک مغوی کو بازیاب کرا لیا گیا ہے. پولیس زرائع نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ دن ڈاکٹر حسن کے بچوں کے اغوا میں ملوث ملزمان سندھ پنجاب بارڈر کے قریب ایک جھڑپ میں مارے جا چکے ہیں جن کی شناخت عثمان، جنید، راحیل اور حسیب کے نام سے ہوئی ہے زرائع کے مطابق بتایا جا رہا ہے کہ ملزمان ڈاکٹر حسن کے قریبی عزیز ہیں اور بچوں کے اغوا کا مقصد تاوان حاصل کرنا تھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کروڑوں روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا. مزید برآں اس دفعہ کچے کے آپریشن کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا گیا ہے اور روجھان،کشمور اور بھونگ کے ساتھ ساتھ گھوٹکی، شکار پور میں بھی آپریشن لانچ کر دیا گیا ہے، سندھ پولیس بھی پنجاب پولیس کے ساتھ آپریشن میں حصہ لے رہی ہے، پولیس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ اپریل میں دریا اور آبی گزرگاہوں میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے اس لیے ان دنوں آپریشن کرنا زیادہ دشوار نہیں ہوتا. البتہ ایس پی سندھ فیضان علی کا کہنا تھا کہ مقامی پولیس کے پاس جدید ہتھیاروں اور ٹیکنیکل آلات کی کمی ہے امید ہے کہ سندھ حکومت اس آپریشن کے لیے جلد جدید ہتھیار فراہم کر دے گی، آپریشن میں شامل پولیس اہلکاروں کے لیے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کا اعلان بھی کیا گیا ہے، البتہ اپوزیشن کے کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن پنچاب الیکشن کو التوا کا شکار کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تا کہ یہ جواز پیش کیا جا سکے کہ الیکشن سیکورٹی کے لیے اہلکاروں کی کمی ہے اور پنجاب پولیس آپریشن میں مصروف ہے زرائع کے مطابق پہلے بھی کئ دفعہ ڈاکووں کی کمین گاہوں پر آپریشن کیا جا چکا ہے لیکن خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے.







