لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے واضح کیا ہے کہ جماعت اسلامی کسی بھی انتخابی اتحاد میں شامل نہیں ہوگی اور اپنی سیاسی جدوجہد خود مختار طریقے سے جاری رکھے گی۔
پارٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ’’بدل دو نظام‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل اور منظم تحریک کا نام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی رہنماؤں اور خواتین کو رہا کیا جانا چاہیے کیونکہ سزاؤں کے ذریعے کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ملک کی سیاسی صورتحال پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے قومی قیادت کو مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا ہوگا۔ ہر جماعت کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جلسوں اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچائے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ دینی جماعتیں ہمیشہ کشمیری اور فلسطینی عوام کی مضبوط پشت پناہی کرتی رہی ہیں اور مظلوم اقوام کے حق میں حمایت جاری رکھیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے تمام مسالک اور مکاتب فکر کے علما و قیادت ملی یکجہتی کونسل کے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق پر متفق ہیں، جو قومی ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کی بنیاد ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ پاکستان میں بدامنی، دہشت گردی اور ہر قسم کی خونی وارداتوں کے پیچھے امریکا، بھارت اور اسرائیل کا سازشی کردار موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے قومی معیشت کی حقیقی اور سنگین صورتحال اجاگر کی ہے، جو موجودہ معاشی بحران کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔







