جعلی وائس چانسلراین ایف سی کرسی کی ہوس میں غیرقانونی کاموں سے بھی باز نہ آئے

ڈاکٹر اختر کالرو کو کرسی پر بیٹھے 12 سال گزر گئے، 7 سال غیر قانونی ،ہر عدالتی کارروائی پر حکم امتناعی لے لیتے، رٹ لگنے ہی نہیں دیتے

12 سال کے عرصہ میں اربوں روپے کے کنسٹرکشن پروجیکٹس کی بغیر سینیٹ کی منظوری لئے مکمل کرائے

31 جنوری کو 65 سال کے ہونے پر غیر قانونی سینڈیکیٹ سے مزید ایکسٹینشن کی منظوری کی بھی تیاریاں

سینیٹ الیکشن کبھی نہ کروائے گئے، 2,2 لوگوں کو آفس بلا کر پسندیدہ ممبران کی لسٹ پر دستخط کروائے گئے

ملتان (سٹاف رپورٹر ) این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں غیر قانونی کارروائیوں کی بھرمار جاری ہے اور یونیورسٹی ملتان کے جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ 31 جنوری کو 65 سال کے ہو جائیں گے مگر کرسی کی ہوس نے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کو بہت سے غیر قانونی کاموں پر مجبور کر دیا۔ قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر غیر قانونی تعینات ہونے والے ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے اب تو انتہا کر دی کہ وفاقی وزارت تعلیم کے زیر انتظام ہونے کے باوجود وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے وفاقی وزارت تعلیم کے لوگوں کو بہت ہی غلط انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں منسٹری میں بیٹھے بی اے پاس بابو لوگ مجھے چلنے نہیں دے رہے۔ ڈاکٹر اختر کالرو کو کرسی پر بیٹھے 12 سال گزر گئے اور جس میں 7 سال غیر قانونی ہیں۔ جیسے ہی منسٹری اور ایوان صدر کوئی ایکشن لیتے ہیں تو وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو عدالت عالیہ سے حکم امتناعی لے لیتے ہیں اور پھر رٹ برانچ جس میں ایک خاص گروپ عرصہ سے تعینات ہے سے بات چیت کر کے وہ رٹ لگنے ہی نہیں دیتے۔ غیر قانونی تعیناتی کے بعد ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کے بعد ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کی تعیناتی ، ان کے بعد خزانچی مغفور انور چغتائی اور ناجائز کنٹرولر رسول احمد کی تعیناتی ، سینڈیکیٹ کے ممبران کی تعیناتی، پھر اسٹیبلشمنٹ سے برخاستگی کے بعد عدالتی معاونت سے حکم امتناعی لے کر واپس لینے کے بعد مزید غیر قانونی قبضہ اور اس 12 سال کے عرصہ میں اربوں روپے کی بغیر سینیٹ کی منظوری کے کنسٹرکشن پروجیکٹس، اور اب جبکہ ناجائز وائس چانسلر اختر کالرو جو کہ 31 جنوری کو 65 سال کے ہو جائیں گے نے اپنی عمر 65 سال ختم ہونے سے 21 دن پہلے وائس چانسلر کی کرسی کے لیے اخبار اشتہار دے دیا اور درخواست وصولی کی تاریخ 29 جنوری مقرر کی اور ساتھ ہی شرط رکھی کہ 29 جنوری سے پہلے عمر 65 سال سے کم ہونی چاہیے ۔ پھر یہ کہ یہ اخبار اشتہار متعلقہ فورم کی منظوری کے بغیر دی گئی تھی اور سینیٹ اور سرچ کمیٹی موجود ہی نہیں تھی تو رجسٹرار بطور سیکرٹری سینیٹ یہ اشتہار دیا گیا تھا اور لکھا گیا کہ یہ اخبار اشتہار سرچ کمیٹی کی اجازت سے دیا جا رہا ہے جبکہ روزنامہ قوم میں خبر شائع ہونے کے بعد پریس ریلیز میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ابھی سینیٹ اور سرچ کمیٹی تشکیل کے مراحل میں ہے۔ وفاقی وزارت تعلیم نے بھی اس اخبار اشتہار کو غیر قانونی قرار دیا اور ساتھ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی ۔ مگر یونیورسٹی انتظامیہ ابھی بھی ان درخواستوں کو وصول کر رہی ہے۔ اس غیر قانونی اخبار اشتہار کے بارے میں وفاقی وزارت تعلیم اور ایوان صدر یونیورسٹی انتظامیہ کے ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر اور ناجائز وائس چانسلر کو شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہے۔ اب جبکہ وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ 31 جنوری کو 65 سال کے ہو جائیں گے وہ اپنی ملازمت کی عمر ختم ہونے سے 1دن پہلے غیر قانونی سینڈیکیٹ بلا کر غیر قانونی سینڈیکیٹ سے اپنی مزید ایکسٹینشن کی منظوری لیں گے جو کہ بالکل غیر قانونی ہو گی۔ کیونکہ وائس چانسلر بذاتِ خود اس کمیٹی سے اپنی غیر قانونی توسیع منظور نہیں کروا سکتے جس کے وہ چیئرمین ہیں۔ اور وہ سینڈیکیٹ بھی مکمل طور پر غیر قانونی ہو گی۔ کیونکہ سینڈیکیٹ کی فارمیشن ہی غیر قانونی ہے۔ کیونکہ سینڈیکیٹ کے پہلے ممبر خود وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ غیر قانونی ہیں، دوسرے ممبر رجسٹرار نصر اللہ خان بابر وہ بھی ناجائز ہیں کیونکہ 12 سال سے عارضی تعینات ہیں۔ تیسرے ممبر خزانچی کی کرسی پر بیٹھے کلرک 2 سال سے عارضی تعینات ناجائز خزانچی مغفور انور چغتائی ، چوتھے ممبر کنٹرولر رسول احمد جو کہ عارضی طور پر 4 سال سے تعینات ہیں۔ جبکہ یہ رجسٹرار، خزانچی، کنٹرولر 6 ماہ سے زیادہ عارضی نہیں بیٹھ سکتے۔ پانچویں ممبر کامران لیاقت بھٹی ، چھٹے ممبر صادق حسین، ساتویں ممبر نعیم اسلم، آٹھویں ممبر ذوالقرنین عباس جو کہ کنٹریکٹ ملازم ہے، نویں ممبر باسط احسن خان یہ بھی کنٹریکٹ ملازم ہیں اور وہ عنقریب یونیورسٹی چھوڑ کر جانے والے ہیں، دسویں ممبر محترمہ شہزادی ستار، گیارہویں ممبر شیراز احمد یہ بھی کنٹریکٹ ملازم ہیں، بارہویں ممبر عبد المنان، تیرہویں ممبر سلیمان خان یہ بھی کنٹریکٹ ملازم ہیں ، چودھویں ممبر محترمہ مہوش زہرا یہ سب ناجائز ممبران ہیں کیونکہ ان کی بطور سینڈیکیٹ ممبر تعیناتی co-opted ہے جس کی این ایف سی یونیورسٹی ایکٹ میں گنجائش نہیں ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سینڈیکیٹ وائس چانسلر کی تعیناتی اور ایکسٹینشن کا اختیار نہیں رکھتی ۔ اور اسی بابت یونیورسٹی ملازمین کا مطالبہ ہے کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی سینڈیکیٹ کے ان 14 سینڈیکیٹ ممبران کے خلاف قانونی کارروائی امر میں لائی جائے اور ایوان صدر اور وفاقی وزارت تعلیم سے گزارش ہے کہ ان سینڈیکیٹ ممبران کے خلاف گزشتہ 12 سالوں کے غیر قانونی کاموں کی بابت ایف آئی اے اور نیب سے انکوائری کروا کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ مزید برآں یونیورسٹی انتظامیہ نے جن افراد کے نام بطور سینیٹ وفاقی وزارت تعلیم اور ایوان صدر بھیجے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر طاہر عمران قریشی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ کامران لیاقت بھٹی ہیڈ آف الیکٹریکل انجینیرنگ ڈیپارٹمنٹ ہیں اور یونیورسٹی کے جایز و نا جائز کاموں میں انتظامیہ کو ہی سپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ تیسری ممبر محترمہ مہوش زہرا ہیں جن کے ڈیپارٹمنٹ کے ایک بچے نے 2018 میں خود کشی کی اور PCATP نے ان پر پابندی لگا دی تھی۔ چوتھے ممبر طاہر محمود بخاری ہیں جو کہ وائس چانسلر اختر کالرو کے ہمسائے ہیں اور یہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایک کلرک تعینات تھے جن کو وائس چانسلر اختر کالرو نے ڈائریکٹ 18 گریڈ میں این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں تعینات کیا۔ اس بابت ایک پروفیسر نے یہ بھی ذکر کیا کہ سینیٹ کے الیکشن کبھی نہ کروائے گئے اور 2,2 لوگوں کو وائس چانسلر اختر کالرو نے اپنے آفس بلا کر سینیٹ کے پسندیدہ ممبران کی لسٹ پر دستخط کروائے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں