جام پور: سپریم کورٹ کا حکم نظر انداز، پٹواری دفاتر میں پرائیویٹ افراد کا قبضہ

ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل رپورٹ) تحصیل جام پور کے متعدد دیہات میں پٹواری دفاتر پرائیویٹ ملازمین کے قبضے میں ہیں، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ موضع جام پور، تتار والا، گھڑی سلطان شاہ، بستی رندان، نواں بیگھراج، کوٹلہ جندو اور محمد پور نمبر 2 سمیت دیگر مواضعات میں سرکاری پٹواریوں کی غیر حاضری میں پرائیویٹ منشی حضرات دفاتر چلا رہے ہیں اور عوام سے بھاری رشوت وصول کر رہے ہیں۔عوامی حلقوں کے مطابق، جب بھی کوئی شہری زمینی معاملات کے لیے پٹواری دفتر جاتا ہے تو متعلقہ سرکاری پٹواری موجود نہیں ہوتا اور ان کی جگہ پرائیویٹ افراد دفتر میں براجمان ہوتے ہیں۔ یہ پرائیویٹ ملازمین سائلین کو بلیک میل کرکے معمولی کاموں کے عوض بھاری رقوم بطور رشوت وصول کرتے ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فیس پر کوئی کام نہیں ہوتا اور ہر معاملے کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے، ورنہ کام رک جاتا ہے یا کاغذات ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان سرکاری دفاتر میں غیر مجاز افراد کی موجودگی اور ان سے کام لینے پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ پٹواری محکمہ زمینی ریکارڈ کا نگہبان ہے اور ایسے حساس ادارے میں پرائیویٹ افراد کا قبضہ کرپشن اور زمینوں کی غیر قانونی منتقلی کے دروازے کھولتا ہے۔اس بڑھتی ہوئی کرپشن اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے کا ایک بڑا سبب مقامی انتظامیہ کی کوتاہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تمام پٹواری خانوں کا انتظامی کنٹرول مقامی اسسٹنٹ کمشنر ثاقب عدنان کے پاس ہے اور یہ تمام دفاتر اسی کے زیر انتظام آتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر ثاقب عدنان کی سرپرستی اور خاموشی ہی کی وجہ سے یہ پرائیویٹ ملازمین بے خوف ہو کر سرکاری دفاتر میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں اور عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ اگرچہ ان پر واضح طور پر فرداً فرداً الزام لگانا مناسب نہیں، لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ جب تک اعلیٰ انتظامی افسران اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیں گے، یہ کرپشن اور بے ضابطگیاں ختم نہیں ہوں گی۔عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنراجن پور عمران حسین رانجھا فوری طور پر ان پٹواری خانوں کا سرپرائز معائنہ کروائیں، غائب پٹواریوں کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں اور پرائیویٹ افراد کو دفاتر سے نکال کر ان کے خلاف مقدمات درج کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر ثاقب عدنان کو بھی اس سنگین صورتحال کی ذمہ داری لینی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہو اور عوام کو ریلیف ملے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد از جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاج اور قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہوں گے۔یہ صورتحال صرف بدعنوانی کا مسئلہ نہیں بلکہ عام آدمی کو ریاستی تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کی داستان ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں