جامع اسلامیہ;ڈاکٹر اطہراورڈاکٹرابوبکر 45 کروڑکا جی پی فنڈ بھی ہرپ کرگئے، 7 معصومانہ سوال

ملتان (سٹاف رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب اور سابق خزانچی ڈاکٹر ابوبکر جو مبینہ طور پر مالیاتی کرپشن کے علاوہ اخلاقی کرپشن کے الزامات کی بھی زد میں رہے ہیں اور جن کے بارے میں اسلامیہ یونیورسٹی کے بہاولنگر کیمپس کی طالبات اور بعض خواتین اساتذہ نے بھی ان کے کردار کے حوالے سے بہت سی شکایات ڈاکٹراطہر محبوب کو ارسال کی تھیں۔ یہ دونوں حضرات یونیورسٹی چھوڑنے سے قبل یونیورسٹی ٹیچرز اور ملازمین کا 45 کروڑ روپے کا جنرل پراویڈنٹ فنڈ بھی نکلوا کر ہڑپ کر گئے اور یونیورسٹی ملازمین و اساتذہ کے جون 2023 تک کے جنرل پراویڈنٹ فنڈ کا اکاؤنٹ تمام رقم نکلوا کر صفر کر گئے۔ اس بڑی کرپشن میں انہیں جنوبی پنجاب ہی کے ایک سیاستدان کی بھی آشیرباد حاصل تھی اور اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب ڈاکٹر اطہر محبوب نے بطور وائس چانسلر چارج چھوڑا اور بعد ازاں ڈاکٹر ابوبکر کو بھی خزانچی کے عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا تھا جو مبینہ طور پر بیک وقت تین عہدے اپنے قبضے میں رکھ کر بیٹھے تھے۔ آج اسلامیہ یونیورسٹی جو کہ شدید مالی بحران کا شکار ہے اس کی تمام تر ذمہ داری ان دونوں اشخاص پر عائد ہوتی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے جی پی فنڈ کے فراڈ میں جی پی فنڈ کی کٹوتی کروانے والے ملازمین بہت بری طرح اس فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں جن ملازمین کا جی پی فنڈ 2019 تک جمع تھا اس پر حساب کتاب کروا کر اس میں جی پی فنڈز رولز کے تحت منافع بھی شامل کر دیا گیا تھا مگر گزشتہ 6 سالوں میں جی پی فنڈ پر کوئی ورکنگ نہیں ہوئی چنانچہ جن ملازمین کی جی پی فنڈ کی کٹوتی نہیں ہو رہی ان کی اپنی جی پی فنڈ کی کٹوتی نہ ہونے کے باعث ان کی رقم خود ان کے ہاتھ میں ہے جبکہ جن ملازمین کا جی پی فنڈ کٹتا رہا ہے ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ اب اگر وہ پرانے ملازمین یا پروفیسر حضرات اپنا جی پی فنڈز واپس نکلواتے ہیں تو ان کو ان کے ٹوٹل جی پی فنڈ کا تقریباً 60 فیصد ہی مل پائے گا اور اپنا جی پی فنڈ نکلوانے کے بعد ان کو مزید اپنے نکلوایا گیا جی پی فنڈ کی اقساط تنخواہ سے ہر ماہ کٹوانا پڑیں گی۔ چنانچہ جن ملازمین کے جی پی فنڈ کی کٹوتی پہلے سے جاری ہے وہ ملازمین نہ تو اپنی جی پی فنڈ کی کٹوتی رکوا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا جی پی فنڈ نکلوا سکتے ہیں۔ جی پی فنڈ کی کٹوتی سے بھی ملازمین کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا کیونکہ جو کٹوتی کی جا رہی ہے اس پر بینک کی منافع کی شرح سے ہی منافع دیا جا رہا ہے اور کسی بھی گورنمنٹ پالیسی کے مطابق کوئی منافع نہیں دیا جا رہا۔ ایک اہم انتظامی آفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کی اہم اور بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جامعہ نے جی پی فنڈ کے نام پر کبھی فنڈ نہیں بنایا کیونکہ فنڈ سے سرمایہ کاری کر کے منافع بھی بنایا جاتا ہے۔ اس فنڈ کو نکلوایا یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جامعہ نے جی پی فنڈ کے نام پر پیسہ بس ایک الگ اکائونٹ میں رکھا ہوا ہے۔ اکائونٹ میں سے یہ پیسہ پہلے بھی فراڈ میں نکل گیا تھا اور مبینہ طور پر سابقہ وائس چانسلر بھی جاتے ہوئے خالی کر گئے تھے۔ 70 ویں ایف اینڈ پی سی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جی پی فنڈ کو ختم کر دیا جائے اور اکٹھا کیا ہوا پیسہ واپس دے دیا جائے، لیکن اس کے منٹس اس سنڈیکیٹ میں منظور نہیں ہوئے۔ اور بغیر کسی وجہ کے اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کی تنخواہوں سے 6 سال سے ہر ماہ جی پی فنڈ کاٹا جا رہا ہے جس کی کوئی ٹھوس وجہ انتظامیہ کے پاس نہ ہے اور اس فنڈ پر مبینہ طور پر 2 بار ہاتھ بھی صاف کیا جا چکا ہے۔ اس بارے میں موقف کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پی آر او سے رابطہ کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ 1۔آپ ملازمین کی تنخواہوں سے ہر ماہ جی پی فنڈ کاٹ رہے ہیں۔ کیا یونیورسٹی انتظامیہ تمام ملازمین کے جی پی فنڈز کا ذمہ اٹھا تی ہے؟ 2۔ اگر انتظامیہ ذمہ اٹھاتے ہیں تو گزشتہ 6 سال کے جی پی فنڈ کی کہاں سرمایہ کاری کی گئی ہے ؟3۔ یونیورسٹی کے ملازمین کا جی پی فنڈ ایک امانت ہے اور کیا یونیورسٹی اس فنڈ پر بینک شرح کے مطابق منافع اپلائی کر ر ہی یا گورنمنٹ کے جی پی فنڈ رولز کے تحت منافع اپلائی کر رہے ہیں؟ 4۔ ملازمین کے جی پی فنڈز کو ختم کرنے کی بابت ایف اینڈ پی سی کی منظوری کے بعد جی پی فنڈ کی جمع شدہ رقم واپس کیوں نہیں کی جا رہی؟ 5۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جی پی فنڈ محفوظ ہاتھوں میں ہے؟ اور اس پر سابقہ وائس چانسلر نے کوئی غبن نہیں کیا؟ 6۔ ملازمین کے جی پی فنڈ کے حوالے سے آپ مستقبل میں کیا پالیسی رکھتے ہیں؟ 7- اگر جامعہ کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے تو اس کے باوجود کیوں ہر مہینے یہ پیسے کاٹے جا رہے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی کے پی آر او ان سوالات کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں