آج کی تاریخ

جامعہ زکریہ من پسند تقرریاں، جونیئر پروفیسرز مسلط، ڈگری الگ، تعیناتی الگ کا انوکھا فارمولا

ملتان (وقائع نگار)بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں چیئرمین اور انچارج کی تقرریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور داخلے بھی کم ہو رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ مضامین کے پروفیسرز کے بجائے دیگر شعبوں کے پروفیسرز کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہےجبکہ سینئر پروفیسرز کو نظر انداز کر کے جونیئرز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔یونیورسٹی کے کمپیوٹر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران ملک کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔ وہ الیکٹریکل انجینئرنگ پروفیسر ہیں جبکہ اس شعبے میں کمپیوٹر انجینئرنگ کے کئی اساتذہ موجود ہیں ، ڈاکٹر عمران ملک 2021 سے چیئرمین کے عہدے پر فائز ہیں ، بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ تقرری متعلقہ فیلڈ کے ماہرین کو نظر انداز کر کے کی گئی ہے۔اسی طرح سرائیکی ایریا سٹڈی سنٹر میں عربی کی پروفیسر ڈاکٹر روحما حفیظ کو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے عربی ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر ہونے کے باوجود انہیں سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کی قیادت سونپی گئی ہے۔ حالانکہ اس شعبے میں سرائیکی کی پروفیسر ڈاکٹر نسیم اختر موجود ہونے کے باوجود عربی کی ٹیچر کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہے جس وجہ سے اس ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ میٹیریل سائنس میں بھی ایک اسسٹنٹ پروفیسر وحید احمد کو چیئرمین بنایا گیا ہے، جبکہ اس ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ڈاکٹر وحید قمر بھی تعینات ہیں۔ پروفیسرکے بجائے اسسٹنٹ پروفیسر کو چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔ اس صورتحال سے ڈیپارٹمنٹ کی سائنسی تحقیق اور تدریس پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ٹیکسٹائل کالج میں سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسرکے بجائے جونیئر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر عباس شیرازی کو انچارج تعینات کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر گلزار بیگ راجپوت ان سے سینئر ہیں۔ اسی طرح اور بھی مختلف ڈیپارٹمنٹ میں سینئر فیکلٹی کی جگہ جونیئر کو ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا ہے جس سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ یونیورسٹی کو داخلوں میں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں