جامعہ زکریا میں ترقی کاغذی، حقائق زیرو، نئی سڑک ایک دن بھی نہ چل سکی

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ترقی اور بہتری کے دعوؤں کی قلعی اس وقت کھل کر اتر گئی جب نئی تعمیر ہونے والی سڑک محض ایک دن بھی سلامت نہ رہ سکی اور اگلے ہی دن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ یہ واقعہ بالخصوص سول مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جس نے ادارے میں جاری مبینہ غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور غیر معیاری کام کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عکس میں شائع ہونے والی تصاویر اس تلخ حقیقت کی گواہ ہیں کہ کل ہی بننے والی سڑک آج ادھڑ چکی ہے ہالانکہ اس پر سے کسی بھی قسم کے ہیوی ٹریفک بھی نہیں گزری اور نہ روٹیں کا کوئی لوڈ اس یونیورسٹی کی حدود میں واقع اس سڑک پر پڑتا ہے اس کے باوجود 24 گھنٹوں ہی میں جگہ جگہ دراڑیں، بیٹھا ہوا میٹریل اور اکھڑتی سطح صاف بتا رہی ہے کہ یہ منصوبہ معیار کے بجائے محض فائلوں اور تصویروں تک محدود تھا۔ عوامی پیسوں سے بننے والی یہ سڑک ایک دن بھی بوجھ برداشت نہ کر سکی، تو سوال یہ ہے کہ اس پر خرچ کی گئی رقم کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے اساتذہ، ملازمین اور طلبہ طویل عرصے سے سڑکوں کی مرمت کے منتظر تھے۔ امید تھی کہ شاید اس بار کچھ بہتر ہو جائے، مگر نتیجہ وہی نکلا جو برسوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سڑک کیوں ٹوٹی؟ اس کے پیچھے ناقص میٹریل، غیر معیاری تعمیر، جلد بازی، مبینہ کرپشن یا تکنیکی نااہلی—یہ سب عوامل ہو سکتے ہیں۔ مگر اصل وجہ کیا ہے؟ یہ سوال یونیورسٹی انتظامیہ اور سول مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ ہی بہتر بتا سکتے ہیں، اگر وہ بتانا چاہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کل بنی سڑک آج عبرت کا نشان بن چکی ہے۔ یہ محض ایک سڑک نہیں ٹوٹی، بلکہ یونیورسٹی کے سول مینٹیننس کے دعوے، شفافیت کے نعرے اور ترقی کے خواب بھی زمین بوس ہو گئے ہیں۔ اگر اس واقعے پر فوری اور شفاف انکوائری نہ ہوئی تو یہ معاملہ ایک اور فائل بن کر دفن ہو جائے گا اور نقصان ہمیشہ کی طرح ادارے اور عوام ہی کا ہو گا۔ سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں ترقی صرف کاغذوں تک محدود رہے گی، یا کبھی زمین پر بھی نظر آئے گی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں