ملتان (کرائم سیل) زکریا یونیورسٹی کے سکیورٹی عملہ نے موٹر سائیکل چوروں کے ایک بین الاضلاعی گینگ کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کیا ہے جن سے درجنوں موٹر سائیکلیں برآمد ہوئی ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے اس موٹر سائیکل چور گینگ کا سرغنہ اسد نامی ایک شخص ہے جو ایک شخص نعمان کے ساتھ مل کر گزشتہ تین سال سے زکریا یونیورسٹی سمیت ملتان کے علاقوں گلگشت ،گلشن مارکیٹ، کینٹ اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں موٹر سائیکلیں چوری کر کے لیہ بھکر اور تونسہ کے علاقوں میں فروخت کر چکا ہے۔ زکر یونیورسٹی میں یہ چور گینگ جمعہ کے روز مسجد کے باہر سے موٹر سائیکلیں چوری کرتا تھا۔ جس موٹرسائیکل کو چوری کیا جانا ہوتا تھا اس کی مخبری نعمان نامی ایک لڑکا کرتا تھا جسے نشاندہی کے عوض 8 ہزار روپیہ فی موٹر سائیکل ملتا تھا جبکہ اس نشاندہی پر اسد موٹرسائل کو چوری کرتا اور اسے 15 ہزار روپیہ فی نئی موٹرسائیکل ملتا تھا جبکہ اس موٹر سائیکل کو ملتان سے چلا کر لیہ،بھکریا تونسہ لے جانے والے کو 10 سے 12 ہزار روپے فی موٹر سائیکل ملتا تھا۔ تھانہ الپہ کی ابتدائی تفتیش میں ملزمان10 سے زائد موٹر سائیکل کی چوری مان چکے ہیں۔ ان موٹر سائیکل چوروں سے پریس کارڈز، وکیل کے کارڈز ،کلرک ایسوسی ایشن کی نمائندگی کے کارڈز بھی برآمد ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ گینگ زیادہ تر ہونڈا 125 موٹر سائیکلیںہی چوری کرتا تھا اور دو لاکھ روپے کی موٹر سائیکل کے عوض ان تین رکنی گینگ کو محض 33 سے 35 ہزار روپیہ ملتا تھا۔ یونیورسٹی حکام نے ان چوروں کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ تاہم پولیس نے اب تک کتنی موٹرسائیکل برآمد کی ہیں اس بارے میں تفصیلات نہیں مل سکی ہیں۔
