ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے نہایت ہی کم تدریسی تجربے کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری خود اپنے ہی تعینات کردہ متنازع اور غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کے اثر و رسوخ کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں قوانین کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے من پسند افسران کو نوازنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہےجس نے ادارے کے میرٹ، شفافیت اور ساکھ کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سوا سال سے زائد ایڈیشنل چارج پر عارضی تعینات رجسٹرار اعجاز احمد نے اپنے بھائی اختر رسول سمیت فیصل اکرام، طارق محمود، ذوالفقار علی نقوی، محمد عارف اور گل محمد شاہ کو غیر قانونی طریقے سے گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی دینے کی کوشش کی۔ حیران کن طور پر یہ تمام اقدامات نہ صرف متعلقہ قوانین بلکہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے بھی برعکس کیے گئےجبکہ وائس چانسلر نے اس سارے معاملے پر پراسرار خاموشی اختیار کر کے ان ترقیوں کی منظوری دے دی۔ یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آڈیٹر ظفر بلوچ نے اس معاملے میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ترقیوں کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا اور متعلقہ افسران کی تنخواہوں کی پے فکسیشن سے دوٹوک انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب تک تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے اس اقدام کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو دبانے کے لیے یونیورسٹی آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر سمیت دیگر افسران نے آڈیٹر پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لائےجس کے بعد یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا۔ مزید انکشافات کے مطابق اس پورے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جن کی نشاندہی ریزیڈنٹ آڈیٹر نے بھی کر دی ہے۔ آڈٹ اعتراضات میں واضح کیا گیا ہے کہ فیڈرل حکومت کے ایک متنازع نوٹیفکیشن کو مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے اپنایا گیاحالانکہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایک صوبائی ادارہ ہے اور اس پر وفاقی احکامات اس وقت تک لاگو نہیں ہو سکتے جب تک حکومت پنجاب اور محکمہ خزانہ کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ کی جائے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق گریڈ اپ گریڈیشن جیسے اہم فیصلے کے لیے نہ تو گورنر/چانسلر کی منظوری حاصل کی گئی اور نہ ہی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے اجازت لی گئی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی منظوری کے بغیر تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے اختیارات کو بھی نظر انداز کیا گیا جو کہ اس نوعیت کے فیصلوں کی مجاز اتھارٹی ہوتی ہے۔ سروس سٹرکچر میں تبدیلی جیسے حساس معاملات کے لیے لازمی قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔ آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ اس پورے معاملے کو فوری طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سپرد کیا جائے اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے باضابطہ منظوری حاصل کیے بغیر کسی بھی اقدام کو آگے نہ بڑھایا جائے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر کے قریبی ساتھی اور سیکرٹری زاہد امین خود بھی ماضی میں اسی نوعیت کے متنازع طریقہ کار کے ذریعے مبینہ طور پر متنازعہ ترقی حاصل کر چکے ہیںجس سے اس پورے نظام میں مبینہ ملی بھگت کے شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی میں اس وقت شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، اساتذہ اور افسران کی بڑی تعداد اس صورتحال پر کھل کر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کافی عرصے سے منتظر ٹیچرز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسرز کے عہدوں پر پروموشنز روک چکے ہیں جن میں بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے صدر ڈاکٹر بنیامین بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری اور ان کے کماؤ پوت عارضی رجسٹرار اعجاز احمد کھل کر اپنے بھائی اور چند ملازمین کی کچھ ناقابل اشاعت وجوہات کی بنیاد پر پروموشنز کر چکے تھے مگر ریزیڈنٹ آڈیٹر کے اعتراض کے باعث یہ معاملہ وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری اور عارضی و غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کے پول کھول چکا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ بحران نہ صرف ادارے کی ساکھ بلکہ طلبہ کے مستقبل کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔ متعلقہ حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، گورنر پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور دیگر ذمہ دار اداروں سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس بارے میںموقف کیلئے رابطہ کرنےپر یونیورسٹی کے عارضی رجسٹرار اعجاز احمد نے کوئی جواب نہ دیا۔







