جامعہ زکریا ؛سیاسی سماجی شخصیات کو فنگشنز میں مدعو کرنے پر بھی شرپسند عناصر سرگرم

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے بی زیڈ یو ایمپلائز کنڈکٹ رولز 1987 کے سیکشن 9 اور سیکشن 17 کے مطابق کوئی بھی یونیورسٹی ملازم اپنی ملازمت سے متعلق کسی دعوے میں یونیورسٹی یا کسی ملازم پر سیاسی یا بیرونی اثر و رسوخ ڈالنے کی کوشش نہیں کرے گا کو سختی سے لاگو کر دیا ہے مگر یونیورسٹی کے وہی افسران جنہوں نے سابقہ وائس چانسلرز حضرات کو یا تو کام نہ کرنے دیا یا مختلف انکوائریوں میں پھنسا کر ان کو یونیورسٹی سے برطرف کرا دیا۔ اب اس گروپ نے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کو دباؤ میں لانے کے لیے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے جاری شدہ سرکلر پر سیاست شروع کر دی ہے اور اپنی مختلف میٹنگز میں وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری جو کہ یونیورسٹی کو سیاست اور فرقہ بازی سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں اور وہی سازشی گروہ اب ضابطہ اخلاق کے سرکلر کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کر رہے ہیں اور وائس چانسلر کی کردار کشی کرتے ہوئے ان کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرنا شروع کرکے نہ صرف ضابطہ اخلاق کی پابندی کے سرکلر پر سیاست کی جا رہی ہے بلکہ سابقہ وائس چانسلر کے دور کے پی ایچ ڈی تھیسز کا پلندا بھی 4 ماہ پہلے تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے کچھ معزز اساتذہ کرام نے اپنے سالانہ فنکشنز میں خود بطور میزبان کچھ سیاسی اور سماجی شخصیات کو ڈنر میں بطور مہمان مدعو کیا تو اس پر بھی کچھ پروفیسر حضرات نے سیاست و شرارت شروع کر دی حالانکہ وائس چانسلر کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کی پابندی کے سرکلر میں بیان کردہ سیکشن 9 اور 17 میں صرف اور صرف ملازمت، ٹرانسفر، سزا کے کیسز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عوامی و سماجی نمائندوں کو ایسے فنکشنز میں مدعو کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر کچھ شر پسند عناصر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بلیک میل کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کو قانون کے مطابق کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں اور اپنے بے بنیاد مقاصد کے لیے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں مگر وائس چانسلر کا علی الاعلان بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو سیاست سے پاک کرنے کی طرف یہ ایک احسن اقدام ہے۔ جس سے یونیورسٹی میں میرٹ کو فروغ ملے گا۔ مگر اس ضابطہ اخلاق کی پابندی کے سرکلر کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کسی بھی سیاسی و سماجی شخصیت کو بطور مہمان بلانا اس سرکلر کی خلاف ورزی ہے۔ بلکہ ان فنکشنز میں سیاسی و سماجی شخصیات کو مدعو کرنا ایک احسن قدم ہے تاکہ سیاسی و سماجی شخصیات بھی اداروں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں