ملتان ( جاوید اقبال عنبر سے ) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق لا کالجز کے طلبا و طالبات کے لئے سٹڈی سنٹرز قائم کرنے میں ناکام ہوگئی ، 6 سال سے کلاسز شروع نہ ہونے کے باعث 15 ہزار سے زائد طلباء کا تعلیمی نقصان ، مستقل تاریک ہوگیا ، متاثرہ لاسٹوڈنٹس نے جامعہ زکریا کے تعلیم دشمن پالیسی اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاجی تحریک کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی سے الحاق شدہ لاء کالجوں میں داخلہ لینے والے 15 ہزار سے زائد ایل ایل بی کے طلباء کا 6 سال سے تعلیمی نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے لا سٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔سپریم کورٹ کے بار بار احکامات کے باوجود ان پر عمل نہیں کرایا جاسکا، احکامات میں کہا گیا تھا کہ طلباء کے لیے تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے سٹڈی سنٹرز قائم کئے جائیں ،ایف آئی اے کی رپورٹ کے ذریعے جن طلباء کی شناخت کی گئی ہے ان کے زیر التوا امتحانات کا انعقاد کیا جائے اور اس بحران کو حل کیا جائے جس نے ہزاروں طلباء کی تعلیم اور مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایل ایل بی کے 5 سالہ پروگرام کے طلباء نے 2024 کی متوقع گریجویشن تاریخ کے ساتھ 2019 میں داخلہ لیا۔ تاہم یونیورسٹی کی لاپروائی کی وجہ سے ان کی تعلیم 2022 میں اچانک رک گئی اور اب 2025 تک ہزاروں طلباء اب بھی کلاسز اور امتحانات دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے ۔ طلباء کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ 389 ایس سی ایم آر 2019 ، پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے بار بار نوٹسز اور گورنر پنجاب/ چانسلر کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی کے 29 اپریل 2022 کے فیصلہ پر عمل نہیں کیا گیا اور جامعہ زکریا سٹڈی سنٹرز نہ بنا کر طلباء و طالبات کا قیمتی وقت اور تعلیم کا نقصان کرواتی آرہی ہے ۔تین سالہ پروگرام والے سٹوڈنٹس کی گذشتہ 6 سال اور پانچ سالہ پروگرام والے طلباء کی گذشتہ 3 سال سے کلاسز نہیں ہورہیں جوکہ منعقد کروانا یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے ۔ قانون کے طلباء نے اس صورت حال پر جامعہ زکریا کے خلاف احتجاجی تحریک کا فیصلہ کیا ہے اور لاء سٹوڈنٹس کور کمیٹی قائم کردی ہے جس میں ثنا خضر ، طلعت محمود ، افراسیاب بنگش ، احمد طارق ، شہلا بی بی ، عمبرین بی بی ، اسامہ ایوب ، عائشہ عمبرین ، ابو بکر صدیق ، علی حسن و دیگر شامل ہیں ، طلباء نے 4 فروری کو جامعہ زکریا کے خلاف بڑے احتجاج کا فیصلہ کرتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر ( آر پی او ) ملتان کو خط لکھ سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا ہے جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے سٹی پولیس آفیسر اور وائس چانسلر زکریا یونیورسٹی کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کردیا ہے۔ طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نازک مسئلے کو فوری حل کیا جائے ورنہ وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔






