جامعہ زکریا؛طالبہ ہراسمنٹ، چیئرپرسن شعبہ سرائیکی ڈاکٹر نسیم کیخلاف زبانیں کھل گئیں

جامعہ زکریا؛طالبہ ہراسمنٹ، چیئرپرسن شعبہ سرائیکی ڈاکٹر نسیم کیخلاف زبانیں کھل گئیں

ملتان(جوائنٹ ایڈیٹر ڈیسک) بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ سرائیکی کی چیئرپرسن ڈاکٹر نسیم کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ معروف سرائیکی شاعر اور ادیب رفعت عباس نے ان پر اپنی بیٹی مدیحہ عباس جو سرائیکی میں ایم فل کی طالبہ ہیں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے اور انہیں دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔یہ تنازعہ سرائیکی دانشوروں، شاعروں اور مقامی کمیونٹی کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنا ہے، جنہوں نے ڈاکٹر نسیم پر غیر پیشہ ورانہ رویے، میرٹ کی خلاف ورزی اور منفی ماحول پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ سرائیکی محقق اور مصنف محبوب تابش نے ان کی تقرری کو میرٹ کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کی زبان دانی کی مہارت کو چیلنج کیا ہے۔ صحافی ڈاکٹر سعدیہ کمال نے بھی ڈاکٹر نسیم پر الزام لگایا ہے کہ وہ ساتھیوں اور طلبہ کو ذہنی اذیت پہنچاتی ہیں، اہل اساتذہ کے لیے کیریئر کے مواقع مسدود کرتی ہیں اور تنقید کو دبانے کے لیے حربے استعمال کرتی ہیں۔ملتان کے ایک سینئر صحافی نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر نسیم الزامات کا سامنا کرنے سے گریز کرتی ہیں اور موقف لینے والے صحافیوں سے بدتمیزی سے پیش آتی ہیں۔ ایک سابق ہاسٹل ساتھی نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر نسیم سرائیکی زبان میں مہارت نہیں رکھتیں، اس کے باوجود انہیں شعبے کی سربراہی سونپی گئی ہے۔طلبہ اور فیکلٹی اراکین نے گمنامی میں شکایات درج کروائیں کہ ڈاکٹر نسیم کی زیر قیادت انہیں ہراسانی اور بدانتظامی کا سامنا ہے۔ ان پر شعبے کے فنڈز میں خورد برد اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیںلیکن انسدادِ بدعنوانی کے محکمے کی جانب سے ان شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔تازہ ترین پیش رفت میںڈاکٹر نسیم نے مدیحہ عباس اور ان کے شوہر کاشف مظہر کے خلاف ہراسانی کی شکایت درج کرائی ہےجس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے انہیں دھمکیاں دی تھیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ پہلے ہی حل ہو چکا تھا۔جب ڈاکٹر نسیم سے اس بارے میں موقف لینے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ رفعت عباس ان کے خلاف میڈیا میں مذموم مہم چلا رہے ہیں تاکہ انہیں ہراساں کیا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 10 اکتوبر کو مدیحہ عباس کے شوہر کاشف مظہر نے ان کے دفتر میں آ کر بدتمیزی کی اور انہیں ہراساں کیا۔ ڈاکٹر نسیم نے کہا، “اگر ان کے تفریحی پروگرام اور مرچ مصالحے سے بھرپور خبریں میری ذاتی زندگی پر اثر ڈالتی بھی ہیں، تو میں ایسی عورت نہیں ہوں جس کی عزت مستعار ہو۔ ان کے مطابق صرف وہی خواتین قابل احترام ہیں جن کا تعلق ان کی 5000 سالہ تاریخ سے ہو۔ میں تو بقول ان کے دو ٹکے کی ملازم ہوں۔”روزنامہ قوم نے 3 دسمبر کو ڈاکٹر نسیم سے ان کی تقرری اور کارکردگی پر سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے اعتراضات پر ان کا موقف جاننے کے لیے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا مدیحہ عباس 10 اکتوبر کو اپنے شوہر کے ساتھ ان کے دفتر میں موجود تھیں اور کیا وہ بھی ہراسانی کی مرتکب ہوئیں، جیسا کہ الزام لگایا گیا ہے؟ رفعت عباس اور مدیحہ نے مدیحہ کی موجودگی یا کسی بدتمیزی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ تاہم ڈاکٹر نسیم نے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔وائس چانسلر بہاالدین زکریا یونیورسٹی نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ اس معاملے پر ایک انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔”

شیئر کریں

:مزید خبریں