ملتان (جاوید اقبال عنبر سے) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں صوفی ازم و تصوف کمپلیکس 3 سال سے التواکا شکار ، ٹھیکیدار جرمانوں اور بل کلیئر نہ ہونے کے باعث بدظن ، کام ادھورا چھوڑنے پر مجبور ،منصوبہ مزید کھٹائی میں پڑنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے ۔ تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی ملتان میں صوفی ازم و تصوف پراجیکٹ مارچ 2022 میں شروع کیا گیا جسے 18 ماہ کے دوران مکمل ہونا تھا لیکن یہ منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہوسکا ، ذرائع کے مطابق یہ پراجیکٹ اب تکمیل کے آخری میں ہے ، منصوبے کے تحت عمارت، کلاس رومز ، لائبریری ، کانفرنس ہال ، واش رومز اور پینٹ کا کام مکمل ہوچکا ہے اور اب بجلی کی وائرنگ اور فنشنگ کی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شیخ عمران جبکہ ٹھیکیدار فراز احمد ہیں ، معلوم ہوا ہے کہ ٹھیکیدار نے 55 لاکھ سے زائد کام مکمل کرلیا ہے اور چالیس لاکھ کے بلز پراجیکٹ ڈائریکٹر کو جمع کروائے ہوئے ہیں لیکن تقریباً ایک ماہ گزرنے باوجود چالیس لاکھ کا بل کلیئر نہیں ہوا جبکہ 15 لاکھ کا کام مزید بھی ہوچکا ہے ۔ جبکہ ٹھیکیدار کو منصوبہ میں تاخیر پر روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار روپے کے حساب سے ڈیڑھ لاکھ روپے سے زائد جرمانہ بھی کیا گیا ہے اس کے علاوہ پرائس ویری ایشن کے لیے بھیجا گیا 55 لاکھ روپے کا بل بھی گزشتہ نومبر 2023 سے جمع ہے لیکن اس کی ادائیگی نہیں کی گئی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا منصوبے کی تھرڈ پارٹی کنسلٹنسی فرم این ایس والٹ دو ماہ سے غائب ہے اور ان کا کوئی نمائندہ یونیورسٹی نہیں آرہا جس کی وجہ سے بل رکے ہوئے ہیں اس صورت حال میں ٹھیکیدار بدظن ہوچکا ہے اور تکمیل کے آخری مراحل میں موجود منصوبے کو چھوڑنے پر مجبور ہے جس کی وجہ منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ منصوبہ سابق وائس چانسلر منصوبہ اکبر کنڈی کے دور میں تصوف کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے ایچ ای سی کی گرانٹ سے شروع کیا گیا جس کا تخمینہ 11 کروڑ سے زائد لگایا گیا تھا۔






