یونیورسٹی نےجنوبی پنجاب کے ہزاروں طلبہ کےغیرمنظورشدہ کورسزمیں داخلوں بارےتحقیقاتی خبر کی اپنی وضاحتی پریس ریلیز میں خود تصدیق کر دی
صرف بی ایس آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور بی ایس ڈیٹا سائنس کا ابتدائی سروے، 7 پروگرامز اور سب کیمپسز کے کمپیوٹر ڈگری پروگرامز کی ایکریڈیشن نہیں
کمپیوٹر ڈگریز کا زیرو وزٹ کروا لیا تو کاپی فراہم کر دیں:’’قوم‘‘ کاسوال،مجھے نہیں پتا: سربرا ہ کمپیوٹر سائنسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر دوست محمد ،موبائل بندکردیا
طلبا و طالبات کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور سب کیمپسز میں کمپیوٹر ڈگری پروگرامز میں داخلے سے پہلے ویب سائٹ سے ایکریڈیشن کی تصدیق کاانتباہ

ملتان(سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی جانب سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسی سرکاری سطح کی یونیورسٹی میں بھی غیر منظور شدہ کورسز کروا کر جنوبی پنجاب کے غریب اور متوسط گھرانوں کے ہزاروں طلبا و طالبات سے تدریسی دھوکہ دہی کے حوالے سے گزشتہ روز شائع شدہ تحقیقاتی خبر کی اپنی وضاحتی پریس ریلیز میں از خود ہی تصدیق کر دی۔ کمپیوٹر سائنسز ڈیپارٹمنٹ کی نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل جو کہ حکومتی ادارہ ہےسے غیر منظور شدہ ہونے کی خبر 24 جون 2024 کو مکمل طور پر تحقیق کے بعد شائع کی گئی تھی جس کی بابت چیئرمین ڈاکٹر جواد اقبال کو ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کا نوٹیفکیشن بھی واٹس ایپ کیا گیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیشنل ڈگری پروگرامز اور کوالیفیکیشنزمتعلقہ پروفیشنل کونسل سے ایکریڈیشن کے بغیر نہ تو آفر کی جا سکتی ہیں اور نہ ہی پہلے سےکروائے جانے والے پروگرامز مزید جاری کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے طلباء و طالبات اور ان کے والدین کو آگاہی دی گئی کہ داخلہ لینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیں کہ مذکورہ ڈگری پروگرام متعلقہ پروفیشنل کونسل سے منظور شدہ بھی ہے یا نہیں اور اس بارے چیئرمین ایڈمیشن کمیٹی ڈاکٹر جواد اقبال سے جب موقف لیا گیا تو ان کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو کمپیوٹر سے متعلقہ پروگرامز کی ایکریڈیشن کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ ڈاکٹر جواد اقبال کے موقف کے مطابق کمپیوٹر سے متعلقہ مضامین کی ایکریڈیشن انجینئرنگ پروگرامز کی ایکریڈیشن کی طرح لازمی نہیں ہے جبکہ ہا ئر ایجوکیشن کمیشن اور نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل تمام سرکاری نیم سرکاری اور نجی یونیورسٹیز میں اس ایکریڈیشن کو لازمی قرار دے چکی ہیں۔ اس حوالے سے اسلامیہ یونیورسٹی کے ہی 2 کمپیوٹر پروگرامز بی ایس آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور بی ایس ڈیٹا سائنس اپنا زیرو وزٹ یعنی محض ابتدائی سروے کروا چکے ہیں جسے کسی طور پر بھی ایکریڈیشن نہیں کہا جا سکتا جبکہ باقی مین کیمپس میں کمپیوٹر سے متعلقہ 7 پروگرامز اور سب کیمپسز کے کمپیوٹر ڈگری پروگرامز نے اپنی ایکریڈیشن سرے سے حاصل نہ کی ہے۔ روزنامہ قوم نے نیشنل کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی ویب سائٹ سے مکمل تحقیق کے بعد خبر شائع کی اور ایڈمیشن کمیٹی کےچیئرمین سے جو موقف لیا گیا وہ بھی جوں کا توں شائع کر دیا گیا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جو کہ اس سے پہلے بھی مختلف خبروں کی زد میں رہی ہے،نے اپنی لاقانونیت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے کمپیوٹر ڈگری پروگرامز پر توجہ دینے کے بجائے روزنامہ قوم کو حسب سابق دھمکی دینے پر اتر آئی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے پریس ریلیز شائع ہونے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے کمپیوٹر سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر دوست محمد سے رابطہ کیا گیا کہ پریس ریلیز کے مطابق کمپیوٹر ڈگری پروگرامز کی ایکریڈیشن تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ ایڈمیشن چیئرمین ڈاکٹر جواد اقبال کے مطابق کمپیوٹر ڈگری پروگرامز کی ایکریڈیشن باقی پروفیشنل ڈگریز کی طرح ضروری ہی نہیں ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ اگر آپ نے سب کمپیوٹر ڈگریز کا زیرو وزٹ بھی اگر کروا لیا ہے تو اس کی کاپی فراہم کر دیں تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے کسی چیز کا نہیں پتا۔ یہ پی آر او آفس نے پریس ریلیز شائع کی ہے ۔ آپ انہی سے رابطہ کر لیں اور فون بند کر دیا، جب کال دوبارہ کی گئی تو ان کا نمبر بند پایا گیا۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوالٹی سیل ڈاکٹر رفاقت اور پبلک ریلیشنز آفیسر شہزاد خالد سے رابطہ کرنے کی متعدد بار کوشش کی گئی مگر انہوں نے بھی کال ریسیو نہ کی۔ در حقیقت کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی کو صرف آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا سائنس میں داخلوں کی اجازت ہے۔ طلبا و طالبات کو روزنامہ قوم کی طرف سے ایک بار پھر آگاہی دی گئی ہے کہ وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور اس کے سب کیمپسز میں کمپیوٹر ڈگری پروگرامز میں داخلے سے پہلے کمپیوٹر ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل کی ویب سائٹ سے ایکریڈیشن کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی بھی قسم کی منظم دھوکہ دہی سے انہیں بچایا جا سکے۔ یاد رہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کمپیوٹر کونسل کمپیوٹر ڈگری پروگرامز میں بغیر اجازت کے داخلے دے دیتی ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ کونسل کی ایکریڈیشن کے بغیر یونیورسٹیز کو داخلوں کی اجازت نہیں ہے اور کمپیوٹر کونسل کا زیرو وزٹ کروانا اس بات کی عکاسی ہے کہ ایڈمیشن شروع کرنے سے پہلے متعلقہ کونسل کا اجازت نامہ یا جسے زیرو وزٹ بھی کہا جاتا ہے بہت ضروری ہے مگر شاید ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز و چیئرمین ایڈمیشن کمیٹی کے عہدے پر براجمان پروفیسر ڈاکٹر جواد اقبال زیرو وزٹ کی حقیقت و مقصد سے بے خبر ہیں۔






