جنسی استحصال،منشیات استعمال میںپروفیسر عمران ، پروفیسر ایم ایچ طاہر، پروفیسر ابوبکر، حسن مجتبیٰ ، اسد، پروفیسر رانجھا، ڈاکٹر طاہر، ڈاکٹر سلیم ، ٹی او ثمر وحید شامل ،ڈاکٹر جام سجادسزایافتہ اورثابت شدہ مجرم
غیر اخلاقی سرگرمیوں ،منشیات کے استعمال و ترسیل بارے سابق سکیورٹی آفیسر میجر( ر)اعجاز اور پروفیسر ابوبکر کے اقبالی بیانات غائب، کارروائی و سہولت کاری میں آر پی او آفس کے اہم اہلکار شامل
سنگین جرم میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی نہ کرنےپر آر پی او بہاولپور کی ساکھ متاثر ، اہم عہدے پر تعینات آفیسر کس دبائو کا شکار ؟ ارادی یا غیر ارادی طور پر طالبات کا تحفظ کرنے میں ناکام
اخلاقی کنٹرول سےلاتعلق ڈاکٹر اطہر محبوب نےجنسی ہراسمنٹ کا الزام ثابت ہونے پرنوکری سے فارغ گریڈ 17 کے ملازم جام سجاد حسین کو براہ راست گریڈ 19 میں ملازمت،گریڈ20میں ترقی بھی دیدی


ملتان(قوم ریسرچ سیل) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور منشیات کے استعمال اور ترسیل کے حوالے سے سابق سکیورٹی آفیسر میجر ریٹائرڈ اعجاز اور پروفیسر ابوبکر کے اقبالی بیانات بھی عدالت میں پیش کئے جانے والے ریکارڈ سے غائب کرا دیئے گئے اور اس ساری کارروائی و سہولت کاری میں آر پی او آفس کے اہم اہلکاروں کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آنے کے باوجود اس سنگین جرم میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی نہ ہونا از خود آر پی او بہاولپور کی ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آخر اتنے اہم عہدے پر تعینات آفیسر کس دبائو کا شکار ہوئے کہ انہوں نے چپ سادھے رکھی اور ارادی یا غیر ارادی طور پر یونیورسٹی طالبات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ۔کیا ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ دوران حراست پروفیسر ابوبکر اور میجر( ر) اعجاز نے نہ صرف از خود منشیات اور قوت بخش ادویات کے استعمال کا اعتراف کیا تھا بلکہ اسلامیہ یونیورسٹی میں منشیات اور جنسی ہراسمنٹ میں ملوث متعدد خود ساختہ معزز اساتذہ کا نام بھی لیا تھا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے اور اس ویڈیو میں بھی وہ نام سنے جا سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کی ریکارڈنگ ابھی بھی بعض پولیس افسران اور ایک سیاستدان کے پاس موجود ہے جو کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے جبکہ یہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری میں بھی محفوظ ہے جو طریقہ کار کے مطابق حاصل کی جا سکتی ہے۔پروفیسر ابوبکر کے خلاف طالبات کو فیل کرانے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے، لیڈی اساتذہ کو ہراساں کرنے، کروڑوںروپے کی کرپشن کرنے اور بیرون ملک رقوم منتقل کرکے ویزہ حاصل کرنے کے ثبوتوں کے باوجود سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب ان کو تحفظ دیتے رہے بلکہ اخلاقی کنٹرول کے حوالے سے ڈاکٹر اطہر محبوب اتنے لاپرواتھے کہ انہوں نے 1122 کے کوڈ سے عالمی سطح پر تسلیم کئے جانے والے ادارے سے ایک (س ج) نامی آفیسر خاتون سے جنسی ہراسمنٹ کا الزام ثابت ہونے پر بعد انکوائری نوکری سے برخاست کئے جانے والے گریڈ 17 کے ملازم جام سجاد حسین کو براہ راست گریڈ 19 میں اسی یونیورسٹی میں ملازمت دے دی حالانکہ اخلاقی جرم میں نکالے جانے والے پر سرکاری، نیم سرکاری و دیگر حکومتی اداروں میں ملازمت کے دروازے زندگی بھر کے لئے بند ہو جاتے ہیں۔ جام سجاد کو 9 اکتوبر 2017 کو لیٹر نمبر 11, ایس اینڈ جی اے ڈی/ 15- 107 سال 2017 کو معطل اور پھر صوبائی محتسب رخسانہ گیلانی نے 14 جنوری 2019 کو جام سجاد حسین کو ہراسمنٹ کا الزام ثابت ہونے پر اسے مجرم قرار دیتے ہوئے نوکری سے برخاست کر دیا تھا مگر بدکردار لوگوں کو آنکھ کا تارا بنا کر رکھنے والے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب جو اس قسم کے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر یونیورسٹی پر مسلط کرتے تھےنے جام سجاد کو گریڈ 19 میں بھرتی کرکے گریڈ 20 میں ترقی سے بھی نواز دیا۔ ڈاکٹر ابوبکر اور میجر اعجاز جو کہ اپنے ساتھیوں کی مدد سے اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کرکے طالبات کو بلیک میل کرتے تھے، اس کے تمام تر ثبوت اور ان کی چیٹنگ پولیس ریکارڈ اور فرانزک رپورٹ میں موجود ہے مگر عدالت کے ریکارڈ سے غائب کرا دی گئی۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ آر پی او بہاولپور اس تمام تر تفتیش سے خود کو روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ رکھتے تھے اور وہ آج بھی بہاولپور ہی میں تعینات ہیں مگر پولیس ملازمین کے اتنے بڑے جرم پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ دوران تفتیش کیا یہ عیاں نہیں ہو گیا تھا کہ پروفیسر ابوبکر کے قریب اسی قماش کے جن لوگوں کا اس نے نام لیا اور ثبوت دیئے ان میں ایک نام تو سزا یافتہ اور ثابت شدہ مجرم ڈاکٹر جام سجاد تھا، نہ اسے انکوائری کے لئے طلب کیا گیا اور نہ ہی دیگر کو، جبکہ جام سجاد نامی ثابت شدہ درندہ اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہا ہے۔ کیا کوئی بھی ایسا باضمیر آفیسر یونیورسٹی اور بہاولپور میں تعینات نہیں جو ثابت شدہ جنسی استحصال کرنے والے جام سجاد نامی استاد کے روپ میں درندے بارے کوئی ایکشن ازخود لے سکے یا اس پر رپورٹ بنا سکے۔ کمشنر بہاولپور نادر چٹھہ ڈپٹی کمشنر ملتان کے طور پر بہت اچھی شہرت رکھتے تھے، اب بہاولپور میں ان کی خاموشی بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔دوران تفتیش میجر(ر) اعجاز کے بقول یونیورسٹی میں جنسی استحصال اور منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل پروفیسر عمران ، پروفیسر ایم ایچ طاہر، پروفیسر ابوبکر، اسسٹنٹ پروفیسر حسن مجتبیٰ بہاولپور کیمپس اور اسسٹنٹ پروفیسر اسد بہاولنگر کیمپس جو کہ پروفیسر ابوبکر کے دوست بھی ہیں یہ طالبات کو فیل کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے یا پھر جو طالبہ اس بدکردار ٹولے کے ہتھے نہ چڑھتی، یہ اسکو ذلیل کرتے تھے۔ میجر اعجاز ہی کے مزید انکشافات میں پروفیسر رانجھا، پروفیسر ڈاکٹر طاہر، پروفیسر ڈاکٹر سلیم ، ٹرانسپورٹ آفیسر ثمر وحیدبھی شامل ہیں اور یہ سب ثبوت فرانزک رپورٹ میں موجود ہیں تو پھر مجرمانہ خاموشی کیوں اور یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ کیوں پردہ پوشی کر رہی ہے؟ اب چاہئے تو یہ تھا کہ میجر( ر) اعجاز کے اقبالی بیان کی روشنی میں یونیورسٹی انتظامیہ ان چند کالی بھیڑوں کے خلاف صاف شفاف انکوائری کراتی اور ان جیسوں مکروہ کردار کے حامل ملازمین کو فارغ کرتی لیکن یونیورسٹی نے اس معاملے کو دبا دیا اور ایک کمیشن جو ایک جج پر مقرر ہوا، اس کی ذمہ داری تھی کہ آزادی سے کسی مقام پر رہ کر لوگوں کو سنتا مگر جج مذکور نے مٹی پائو پروگرام کے تحت کلین چٹ دے دی توان فرانزک رپورٹس میں ملنے والے ثبوت کا کیا بنے گا؟میجر اعجاز اور پروفیسر ابوبکر کے انکشافات کا کیا انجام ہو گا؟ بہاولنگر کیمپس میں تازہ واقعہ جس پر مقدمہ درج ہوا اس میں پکڑے جانے والے استاد کا کیا بنے گا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فرانزک رپورٹ عدالت پیش کر کے ملزمان کو سزا دلائی جاتی مگر پردہ پوشی جاری ہے۔ یاد رہے کہ پولیس کی تفتیش میں یونیورسٹی کے کچھ منشیات استعمال کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کے 100 سے زیادہ منشیات فروشوں سے روابط کے ثبوت کی لسٹ بھی تو موجود ہے جن سے منشیات خرید کر استعمال اور یونیورسٹی میں سپلائی ہوتی، ان کے خلاف پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی۔






