ملتان(سٹاف رپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پروفیسر حضرات کو موقف من و عن شائع کیا جا رہا ہے مگر جو ویڈیو اقبالی بیان پر مشتمل ہے اور جس کا فرانزک بھی ہو چکا ہے اور جس میں میجر(ر) اعجاز بہت کچھ بتا رہا ہے۔ اس کو روزنامہ ’’ قوم‘‘ نے محفوظ کر رکھا ہے ۔ چونکہ وہ صفحہ مثل کا حصہ تھا اب جبکہ اُسے صفحہ مثل سے غائب کر دیا گیا ہے اور پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی پارسل شدہ DVD پر مشتمل ریکارڈ بھی بہاولپور کے اعلیٰ پولیس افسران کی ذاتی دلچسپی پر مقدمہ کی فائل سے علیحدہ کر دیا گیا ہے اوپر سے تفتیشی رپورٹ بھی تبدیل کر ا دی گئی ہے مگر پنجاب فرانزک لیبارٹری میں یہ سب کچھ محفوظ ہے اور چند دیگر ہاتھوں میں بھی یہ ریکارڈ موجود ہے۔ میرے لئے یہ بات ہضم کرنا بہت مشکل ہے کہ کوئی ایسا سیاستدان جس کے اپنے گھر میں بھی بیٹیاں ہوں محض لینڈ کروزر کے تحفے پر ان الفاظ کے ساتھ ’’ برائے فروخت‘‘ ہو جائے کہ تحفہ اسلام میں جائز ہے۔کیا تحقیقات کے لئے آنے والے اکلوتے آفیسر کو یہ زیب دیتا تھا کہ وہ سرکٹ ہائوس میں قیام کرنے کے بجائے چھ دن اسلامیہ یونیورسٹی کے ریسٹ ہائوس میں براہ راست ’’ ملزم پارٹی‘‘ کی میزبانی کا شرف حاصل کرے۔ میں نے پروفیسر ابو بکر اور میجر (ر) اعجاز کی ویڈیو دیکھ رکھی ہیں مگر وہ قابل اعتراض نہیں البتہ نیم قابل اعتراض تھیں کہ غیر محرم کے ساتھ ٹیوب ویل میں نہانا ، غیر محرم کےسامنے لباس کے حوالے سے احتیاط نہ برتنا ، غیر محرم کو گلے لگا تےہوئے تھوڑا سفر مزید طے کر لینا۔موبائل چیٹنگ میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دینا۔ طالبات کو بلیک میل کر کے ان سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا اور پھر انہی سے معافی نامے لکھوا کر فائلوں کا پیٹ بھرنا۔ تمام سرکاری افسران اور تفتیشی اداروں نے جس طرح اس معاملے کو برباد کیا ہے اور اس بربادی سے جس طرح سے چند لوگوں کو شہ ملی ہے اسے دیکھ کر اور جان کر یہی لگتا ہے کہ ان تمام ’’ صفائی پسندوں‘‘ نے بیٹی اور بہن جیسی نعمت دیکھی ہی نہیںہوگی۔ اللہ نے یقینی طور پر انہیں اس برکت اور رحمت سے ’’ محفوظ‘‘ رکھناہوگا۔ اسی لئے تو اتنے بڑے ظلم کو چھپانے کا ان میں حوصلہ پیدا ہوا۔ آج کی جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ بہت ہی آسان ہو گیا ہے کہ کسی کے قیام و طعام کی انہی کے موبائل سے لوکیشن لینا اب کوئی مشکل ہی نہیں رہا۔ جب کوئی انکوائری آفیسر کسی انکوائری میں فریق کا مہمان بن جائے تو اس کی مرتب کردہ رپورٹ غیرجانبدار کیسے رہ سکتی ہے۔ بہت سے فورم باقی ہیں۔ ابھی اعلیٰ عدلیہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حاکم اعلیٰ کے خانے میں صرف اللہ پاک ہی کو رکھتے اور تسلیم کرتے ہیں۔ پھر ان عدالتوں کے بعد روز محشر کی عدالت بھی تو ہے ۔ ان انکوائری کرنے والوں ،لکھنے والوں، بیان تبدیل کرنے والوں، ریکارڈ غائب کرنے والوں ، تحائف کو سنت قرار دینے والوں نے اس عدالت میں بھی پیش ہوناہے۔






