جامعات میں سولرائزیشن کرپشن اور کمیشن کا محفوظ ذریعہ، قومی خزانے پر دن دیہاڑے ڈاکہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) جامعات میں سولرائزیشن کے نام پر نئی کرپشن اسکیم بے نقاب، کنسٹرکشن کے بعد اب “سورج کی روشنی” بھی لوٹ مار کا ذریعہ بن گئی. ملک بھر کی جامعات اور یونیورسٹیوں میں کنسٹرکشن کے نام پر ہونے والی بدعنوانی کے بعد اب کرپشن کا ایک نہایت ہی آسان، محفوظ اور منافع بخش طریقہ پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آ چکا ہے، جسے ’’سولرائزیشن‘‘ کا خوبصورت نام دے کر قومی خزانے پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ وہ منصوبے جو توانائی بحران کے حل اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے متعارف کرائے گئے تھے، آج خود بدعنوانی کی علامت بن چکے ہیں۔ قانون اور شفافیت کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی سولرائزیشن کے لیے ایک ہی معیار، ایک ہی اسپیسفیکیشن اور ایک ہی ٹیکنیکل اسکوپ کے تحت ٹینڈر جاری کرے تاکہ تمام کمپنیاں مساوی بنیادوں پر بولی دے سکیں اور کم ترین بولی دینے والی کمپنی کو کام دیا جائے۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ٹینڈر تو بظاہر ایک جاری کیا جاتا ہے، لیکن جب مختلف کمپنیاں اپنی بولیاں جمع کراتی ہیں تو ہر کمپنی کی پیش کردہ کوالٹی اور اسپیسفیکیشن الگ الگ ہوتی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کم ترین بیڈر کو رد کر دیتی ہے اور من پسند کمپنی کو کنٹریکٹ دے دیا جاتا ہے، یہ کہہ کر کہ ’’کوالٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ حقیقت میں کوالٹی نہیں بلکہ کمیشن کا معیار دیکھا جاتا ہے۔ سولرائزیشن کے منصوبوں میں آج کل دس فیصد کمیشن لینا کوئی راز نہیں بلکہ ایک ’’عمومی روایت‘‘ بن چکی ہے۔ ہر فائل، ہر اپروول اور ہر ادائیگی کے پیچھے ایک مقررہ حصہ طے ہے، جو خاموشی سے ہاتھ بدلتا ہے۔ ملتان کی ایک بڑی یونیورسٹی میں سولرائزیشن کے ایک منصوبے میں ہونے والی کرپشن کے انکشاف نے اس پورے مکروہ نظام کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں سولر پینلز کی تنصیب کے لیے بنائے جانے والے بیسمنٹ پلرز کا سائز جان بوجھ کر کم کر دیا گیا تاکہ کاغذوں میں تو منصوبہ مکمل نظر آئے، مگر حقیقت میں مٹی، سیمنٹ اور سریے کی بچت سے کمیشن کا بندوبست کیا جا سکے۔ اسی طرح سولر پینلز کے فریمز میں کمی بیشی، کمزور میٹریل اور غیر معیاری ساخت کے ذریعے کنٹریکٹر نے اپنی جیب بھری اور ساتھ ہی ساتھ فیصلہ کرنے والوں کی ہوس بھی پوری کی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام تبدیلیاں منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتیں، بلکہ یہ سب ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جاتا ہے، جہاں ٹھیکیدار، انجینئرنگ اسٹاف اور انتظامی افسران ایک ہی چین میں جڑے ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند برس بعد یہی سولر سسٹمز جواب دے جاتے ہیں، مگر اس وقت تک لوٹ مار کرنے والے محفوظ گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور نقصان صرف قومی خزانے اور ادارے کو ہوتا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ کنسٹرکشن کے بعد سولرائزیشن اب جامعات میں کمائی کا سب سے پسندیدہ اور ’’محفوظ‘‘ ذریعہ بن چکی ہے، جہاں نہ تو عام آنکھ میٹریل کی کوالٹی پرکھ سکتی ہے اور نہ ہی بعد میں ہونے والی خرابی کا فوری حساب لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن، آڈٹ ادارے اور اینٹی کرپشن محکمے کب اس نئی کرپشن فیکٹری کی طرف توجہ دیں گے، یا پھر جامعات میں علم کے ساتھ ساتھ بدعنوانی بھی اسی طرح پروان چڑھتی رہے گی؟

شیئر کریں

:مزید خبریں