جامعات میں جعل سازی کا تسلسل، چولستان یونیورسٹی بھی محفوظ پناہ گاہ، ڈاکٹر ایاز چھٹے وی سی

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاولپور کی چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور بھی صوبہ پنجاب کے تعلیمی ادارے بالخصوص سرکاری جامعات کی طرح ایسے افراد کی محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہیں جو جعل سازی، دھوکہ دہی اور جعلی تجربات کے بل بوتے پر نہ صرف بھرتی ہوئے بلکہ اعلیٰ ترین انتظامی عہدوں تک بھی جا پہنچے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ بار بار سامنے آنے والے سکینڈلز کے باوجود نہ تو نظام جاگا اور نہ ہی ذمہ داروں کا کڑا احتساب ہو سکا۔ ماضی میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈاکٹر اطہر محبوب کے دور کو آج بھی تعلیمی زوال کی ایک واضح مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہےجہاں مبینہ بدانتظامی نے ادارے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس کے بعد این ایف سی یونیورسٹی میں ڈاکٹر اختر کالرو نے عارضی چارج پر پورے ساڑھے بارہ سال گزار د یئے بالآخر سپریم کورٹ نے انہیں ملک بھر کی متعدد درخواستوں اور اعتراضات کی روشنی میں ملک بھر کے 40 وائس چانسلرز کی موجودگی میں عہدے سے ہٹا دیا اور مبینہ طور پر ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کی ریکوری بھی عائد کی گئی۔ اسی تسلسل میں ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر کا غیر اخلاقی کردار منظرعام پر آیا جس نے تعلیمی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیاجبکہ ویمن یونیورسٹی ملتان میں ڈاکٹر کلثوم پراچہ پر جعلی تاریخ پیدائش اور جعلی تجربہ سرٹیفکیٹس کے ذریعے غیر قانونی تعیناتی اور اعلیٰ عہدے پر پہنچنے کے سنگین شواہد سامنے آئےمگر مؤثر کارروائی تاحال سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف گجرات کے پرو وائس چانسلر کو بھی مبینہ طور پر جعلی تجربے کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ فرد واحد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ تازہ ترین اور نہایت سنگین معاملہ چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے پرو وائس چانسلر اور موجودہ ایکٹنگ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد مظہر ایاز سے متعلق سامنے آیا ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر محمد مظہر ایاز نے لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں گریڈ 17 کی ملازمت کے دوران 2009 میں مبینہ طور پر بغیر اطلاع چھٹی حاصل کی، تنخواہیں وصول کرتے رہے اور اسی دوران بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر جوائن کر لیا۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ اس مقصد کے لیے جعلی اور غیر مصدقہ تجربہ سرٹیفکیٹ جمع کروائے گئےمگر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پر کوئی سنجیدہ توجہ نہ دی۔ بعد ازاں جب معاملہ اصل محکمے کے علم میں آیا تو لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کرتے ہوئے ان پر مبینہ طور پر دو بڑی سزائیں عائد کیںجن میں سروس سے برخاستگی اور تنخواہوں کی ریکوری شامل تھی۔ اس کے باوجود وہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں بطور ٹینیور اسسٹنٹ پروفیسر کام کرتے رہےجو انتظامی غفلت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 2016 میں پروفیسر بننے کی درخواست تجربے کی تصدیق نہ ہونے پر مسترد ہوئی، اپیل کے باوجود نااہل قرار دیئےگئے مگر بعد ازاں مبینہ طور پر اپنے ماضی کو چھپاتے ہوئے چولستان یونیورسٹی میں پروفیسر بننے میں کامیاب ہو گئے اور پھر پرو وائس چانسلر حتیٰ کہ ایکٹنگ وائس چانسلر کے منصب تک پہنچ گئے۔ ذرائع کے مطابق تجربے کی تصدیق کے لیے متعلقہ اداروں کو خطوط بھی لکھے گئے مگر معاملہ دانستہ طور پر لٹکایا جاتا رہا۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ویمن یونیورسٹی ملتان اور یونیورسٹی آف گجرات جیسے سابقہ کیسز کی خطرناک تکرار ہے، جہاں مبینہ طور پر فراڈ کے ذریعے جامعات کو’’چونا‘‘ لگایا جاتا رہا اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ عوامی، تعلیمی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان سنگین الزامات کے شواہد موجود ہونے کے باعث آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروا کر ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو قومی اداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کی جرأت نہ ہو اور جامعات کو واقعی علم کے مراکز بنایا جا سکےنہ کہ فراڈ مافیا کے اڈے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں