ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان بھر کی جامعات اور کالجز میں بڑھتی ہوئی ایک تشویشناک روش نے ماہرینِ تعلیم کو فکرمند اور تعلیمی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں متعدد اساتذہ محض کتابی مواد پڑھانے تک محدود ہیں اور مضمون کے اصل تصورات سمجھانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ اساتذہ کرام پورےسمسٹر میں صرف اور صرف طلباء و طالبات کو سمسٹر کے آخر میں نوٹس مہیا کر کے جان چھڑوا لیتے ہیں۔ جبکہ اکثر و بیشتر بیرون ملک سے پی ایچ ڈی کرنے والے اساتذہ لیکچر کے درمیان میں اپنی بیرون ملک کے قصے سنانے بیٹھ جاتے ہیں اور ایسے اساتذہ نے تعلیمی اداروں کو قصہ خوانی بازار بنا کر رکھ دیا ہے۔ سمسٹر سسٹم نے جلدی پر تیل کا کام کیا ہے اگر کوئی طالب علم پورے سمسٹر میں دو چار سوال تیار کر لے تو اسے پیپرز کے رزلٹ میں اچھا خاصا جواب مل جاتا ہے۔ طلبہ و طالبات کی طرف سے تحفے تحائف وصول کرنے کی کہانی تو الگ ہے اور اس کی مکمل تفصیلات روزانہ قوم شائع کر چکا ہے تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ رجحان طلبہ کی فکری صلاحیت، تنقیدی سوچ اور عملی سمجھ بوجھ پر گہرے منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ طلباء طالبات کا کہنا ہے کہ اکثر اساتذہ پورے سمسٹر میں صرف کتاب یا نوٹس کی سطریں پڑھ کر اگلے موضوع پر چلے جاتے ہیں، مگر بنیادی تصورات، مثالیں اور عملی پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالتے۔ نتیجتاً طلباء و طالبات امتحان کے بعد موضوع کو بھول جاتے ہیں اور عملی زندگی میں ان علم کو بروئے کار نہیں لا پاتے۔ ماہرِ تعلیم پروفیسر احمد رضوی کے مطابق، “استاد کا کام محض کتاب پڑھانا نہیں بلکہ طالب علم میں سمجھ بوجھ اور فکری صلاحیت پیدا کرنا ہے مگر جب استاد خود تصوراتی بنیادوں کو واضح نہیں کرتا تو طالب علم محض رٹہ سسٹم کا شکار بن جاتا ہے۔” تعلیمی ماہرین نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کی تربیت، تدریسی طریقۂ کار اور کارکردگی کے جائزے کے نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ اساتذہ نہ صرف مضمون کے ماہر ہوں بلکہ طلباء و طالبات کو سمجھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ اساتذہ کا محض نصابی مواد پڑھانا تعلیمی معیار میں زوال کا باعث بن رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تدریس کو فہم اور عمل کے ساتھ جوڑا جائے تاکہ طلبہ حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ بن سکیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں تدریسی نظام میں لائی جانے والی جدت اور مضبوطی نے صرف تین دہائیوں میں بھارت کے نوجوان کو دنیا کے مقابلے میں کھڑا کر دیا ہے اور ایجوکیشن کے میدان میں بھارتی طالب علم دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کی بنا پر اہم ترین اداروں کا بھی کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔







