ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی سرکاری جامعات میں سنڈیکیٹ، سینڈیکیٹ کونسل اور مختلف اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے فیصلے دانستہ طور پر خفیہ رکھے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے جو نہ صرف آئینی شفافیت بلکہ عوامی حقِ معلومات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ تعلیمی ماہرین، اساتذہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ پرو چانسلر جو عموماً وزیرِ اعلیٰ یا وزیرِ تعلیم ہوتے ہیں، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) فوری طور پر تمام جامعات کو واضح اور تحریری ہدایات جاری کریں کہ سنڈیکیٹ، سلیکشن بورڈ، فنانس اینڈ پلاننگ اور دیگر کمیٹیوں کے ایجنڈاز اور منٹس عوام کے لیے پبلک کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹیوں کے یہ فورمز پبلک پراپرٹی ہیں، نہ کہ وائس چانسلرز یا رجسٹرارز کی ذاتی جاگیر۔ اس کے باوجود دانستہ طور پر منٹس اور ایجنڈاز نہ تو ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں اور نہ ہی متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کو یہ تک معلوم نہیں ہو پاتا کہ ان کے ادارے میں کون سے فیصلے، کن بنیادوں پر اور کس کے فائدے یا نقصان کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مزید تشویشناک انکشاف یہ ہے کہ پنجاب کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں وائس چانسلر نے ایک مخصوص فرد کو نشانہ بنانے کے لیے اس کی پرسنل فائل میں خفیہ تبدیلیاں کیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فائل میں ایسے دستاویزات شامل کیے گئے جن کا نہ تو کبھی سنڈیکیٹ میں ذکر ہوا، نہ ہی کسی باضابطہ ایجنڈے کا حصہ تھےاور نہ ہی متعلقہ شخص کو ان سے آگاہ کیا گیا۔ یہ اقدام نہ صرف بددیانتی بلکہ کھلی جعلسازی کے ذمرے میں آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سب کچھ وائس چانسلرز اور رجسٹرارز کی من مانی سے ہو رہا ہے جہاں اختیارات کو قانون کے مطابق استعمال کرنے کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند، انتقامی کارروائیوں اور اندرونی سیاست کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ کئی کیسز میں سنڈیکیٹ کے اصل منٹس بعد ازاں تبدیل کیے گئے، الفاظ بدلے گئے اور فیصلوں کا رخ موڑ دیا گیا تاکہ مخصوص ایجنڈے کو تحفظ دیا جا سکے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر منٹس اور ایجنڈاز بروقت اور مکمل طور پر پبلک ہوں تو نہ صرف کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتقامی کارروائیوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے بلکہ جامعات میں اعتماد کی فضا بھی بحال ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس موجودہ صورتحال میں جامعات خفیہ فائلوں، بند کمروں کے فیصلوں اور غیر اعلانیہ ترامیم کا گڑھ بنتی جا رہی ہیں۔ تمام سرکاری جامعات میں سنڈیکیٹ اور کمیٹیوں کے منٹس لازمی طور پر ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیے جائیں۔ منٹس میں بعد ازاں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو سنگین جرم قرار دیا جائے۔ وائس چانسلرز اور رجسٹرارز کے اختیارات کو شفاف میکانزم کے تحت لایا جائے۔ متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ اور اپیل کا مؤثر حق دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پرو چانسلرز، وزیرِ تعلیم، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ایچ ای سی اس کھلی بدانتظامی اور غیر شفافیت پر آنکھیں بند رکھیں گے؟ یا پھر تعلیمی اداروں کو واقعی عوامی ادارے بنانے کے لیے عملی اور جرات مندانہ اقدامات کیے جائیں گے؟اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ خاموشی خود اس پورے نظام کے خلاف ایک فردِ جرم سمجھی جائے گی۔







