منشیات فروشی می ملوث یونیورسٹی ملازم شمشاد، اسکا بھائی سرفراز سکھیرا اور خالد شہزاد پی آر او

ثبوت کے باوجود اسلامیہ یونیورسٹی منشیات فروش ملازمین کی محافظ ،کارروائی سے گریزاں

منشیات فروشی می ملوث یونیورسٹی ملازم شمشاد، اسکا بھائی سرفراز سکھیرا اور خالد شہزاد پی آر او

ملتان ( قوم ریسرچ سیل) اسلامیہ یونیورسٹی میں منشیات فروش ملازمین کے خلاف ثبوتوں کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کاروائی سے گریزاں اور اس وجہ سے منشیات فروشی میں ملوث ملازمین کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں ۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں تعینات شمشاد نامی ملازم جو کہ بہاولپور کے کئی تھانوں میں منشیات کے مقدمات میں چالان یافتہ ہے کے بارے میں قوم ریسرچ سیل کو جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق اس کے دو اور بھائی بھی منشیات فروشی میں ملوث ہیں۔شمشاد کا بھائی سرفراز سکھیرا بھی بہاولپور میں بڑے عرصے سے وسیع پیمانے پر منشیات فروشی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے اور ذرائع کے مطابق دونوں بھائیوں کی آپس میں منشیات کے اس گھناونے کاروبار میں پارٹنر شپ بھی متوقع ہے جس کی خفیہ اداروں سے تحقیقات کروانا بہت ضروری ہے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ کوئی نوٹس نہیں لے رہی۔اسی طرح یونیورسٹی میں ایک اور وسیم نامی ملازم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی مبینہ طور پر منشیات فروشی میں ملوث ہے اور اسلامی کالونی کا رہائشی ہے۔اسلامیہ یونیورسٹی میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی کرپشن کے حوالے سے بہت ہی اہم سہولت کار اور یونیورسٹی کے پی آر او نے روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی خبر پر کہا کہ یونیورسٹی کے حوالے سے اگر کوئی خبر ہو تو باضابطہ درخواست دیکر وضاحت مانگیں ۔شہزاد خالد پی آر او کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ رحیم یار خان میں موصوف تھوڑی سی زمین کے مالک تھے مگر یونیورسٹی میں سابق وائس چانسلر کی معاونت سے اس وقت کروڑوں روپے کی جائیداد کے مالک بن چکے ہیں اور یونیورسٹی کی ہر کرپشن کی کہانی کسی نہ کسی حوالے سے موصوف کے گرد گھومتی ہے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں