ثالثی کامیاب، جنگ بند، کل پاکستان میں مذاکرات

اسلام آباد، تہران، واشنگٹن (بیورورپورٹ، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی سفارتی کوششیں آخری لمحات میں کامیاب ہوگئیں ۔امریکااورایران نے 2ہفتے کیلئے سیزفائرپراتفاق کرلیا۔کل اسلام آباد میں امریکاایران مذاکرات ہونگے۔ایرانی سپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی ، امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور سٹیو وٹکوف کی شرکت متوقع ہے۔ آبنائے ہرمز سب کیلئے 2 ہفتے کیلئے کھل گئی،وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی صدر کا رابطہ ہوا، شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان 45 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگوہوئی ، وزیراعظم نے سیز فائرکیلئے ایرانی قیادت کی ذہانت کی تعریف کی،ایرانی صدرنے پاکستانی لیڈرشپ کاشکریہ اداکیا۔صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مل کر کام کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔امریکی صدرنے کہاکہ وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیر نے گفتگو کی ہے،پاکستان کی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدےکےقریب ہیں۔ایران نے کہاہےکہ دشمن کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، امریکاکو 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبورکر دیا،ٹرمپ نے 10 نکاتی تجاویز پر عمومی فریم ورک پر اتفاق کرلیا۔تفصیل کے مطابقیران کی پوری تہذیب ایک رات میں ختم کرنے کی دھمکی کے بعدامریکی صدر نے اپنی دی گئی ڈ یڈ لا ئن ختم ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ایران پر بمباری دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر حملےکودوہفتوں کےلیےمعطل کرنے پر متفق ہوں، یہ دوطرفہ جنگ بندی ہوگی، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقےسےکھولنے پر آمادہ ہو۔صدر ٹرمپ نے کہا پاکستانی کے وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیرکےساتھ گفتگوہوئی، پاکستانی قیادت کی درخواست پرایران پرحملےمعطل کرنےپررضامندہوا، میں سمجھتاہوں یہ قابل عمل بنیاد ہےجس پربات چیت ہوگی۔امریکی صدر بولے ہم پہلےہی تمام عسکری اہداف حاصل کرچکے ہیں بلکہ ان سےآگےبڑھ چکےہیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق حتمی معاہدےکےقریب پہنچ چکےہیں، ہمیں ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے اور ہمارا مانناہےکہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مل کر کام کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں پیداواری نظام میں نتیجہ خیز تبدیلی آئی ہے، 15 میں سے متعدد نکات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا، ایران میں زیر زمین ایٹمی تنصیبات سے جوہری غبار صاف کیا جائے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات سپیس فورس سیٹلائٹس کی نگرانی میں ہیں، تہران کیساتھ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت جاری ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد امریکا نے ’’100 فیصد فتح‘‘ حاصل کر لی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی امن معاہدے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک پہلے ہی موجود ہے اور پیشرفت مثبت سمت میں جاری ہے، 15 نکاتی منصوبے میں سے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، جبکہ باقی معاملات پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری مواد کسی بھی حتمی امن معاہدے کا لازمی حصہ ہوگا، آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی اور دیکھا جائے گا کہ مذاکرات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی تعمیر میں مدد کرے گا، بہت ساری مثبت کارروائیاں ہوں گی، بڑی رقم کمائی جائے گی، ایران تعمیر نو کا عمل شروع کر سکتا ہے، ہم آبنائے ہرمز میں ہر قسم کی سپلائیز تیار کر رہے ہیں اور حالات پر نظر رکھیں گے تاکہ سب کچھ بخوبی اور بغیر کسی رکاوٹ کے چل سکے۔ادھرایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نےبھی جنگ بندی معاہدے کی توثیق کردی۔دوہفتےکی جنگ بندی اورمذاکرات پرایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن کومجرمانہ جنگ میں ناقابل تردید، تاریخی اورعبرتناک شکست کا سامنا کرناپڑا۔بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکاکو 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبورکردیا، تجاویز میں امریکاکی جانب سےعدم جارحیت کی ضمانت دیناشامل ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کےکنٹرول کو جاری رکھنےکی تجویزشامل ہے۔بیان کے مطابق افزودگی کو قبول کرنے، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کوختم کرنا، سلامتی کونسل اوربورڈ آف گورنرزکی تمام قراردادوں کوختم کرنا، ایران کو معاوضہ ادا کرنے، خطے سے امریکی جنگی افواج کےانخلاءکی تجویز شامل ہیں۔سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق لبنان کےخلاف تمام اسلامی محاذوں پرجنگ بندی کو روکنےکی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز سب کیلئے 2 ہفتے کیلئے کھولنےکا اعلان کردیا۔وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اپنے عزیز بھائی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مشکورہوں کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کی انتھک کوشش کی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرا ن نے وزیراعظم شہبازشریف کی اپیل اور 15 نکاتی تجاویز پر امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست مان لی ہے اور امریکا کے صدرٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجاویز پر عمومی فریم ورک پر بھی اتفاق کرلیاہے۔انہوں نے کہا کہ اس بنیاد پر میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے حوالے سے کہتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے گئے تو ہماری طاقتور افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کردیں گی۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایرانی فوج سے رابطے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتے کیلئے محفوظ راستہ دیا جائے گا تاہم اس میں تکنیکی قیود کا خیال رکھنا ہوگا۔دریں اثناوزیراعظم شہباز شریف اور اراین کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان 45 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں حالیہ جنگ بندی اور مستقبل کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائر کے لیے ایرانی قیادت کی ذہانت کی تعریف کی اور امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے تعظیم کا پیغام بھی بھجوایا۔اعلامیے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جامع مذاکرات کل جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور سٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔قبل ازیںپاکستان کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہےجو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا ہمیں پوری امید ہےکہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں