تیل پر قبضہ، کل ایران میں قیامت دھا دینگے: ٹرمپ

تہران،واشنگٹن،تل ابیب،دوبئی (نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ معاہدے کا اچھا موقع قرار دیا اورکہاکہ امیدہے کل تک معاہدہ ہوجائے گا جبکہ دھمکی بھی دی ہے کہ منگل کو ایران میں پاور پلانٹ اور پل کا دن ہوگا اور سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا اور تیل پر قبضہ کرلوں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ‘ایران میں منگل پاور پلانٹ اور پل کا دن ہوگا، سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا’۔امریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ پیر کو ایران کے ساتھ معاہدے کا ایک اچھا موقع ہے جبکہ وہ پہلے آبنائے ہرمز کھولنے یا پھر بدترین بم باری کا سامنا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں کل ایک اچھا موقع ہے، اب وہ مذاکرات کر رہے ہیں، اگر وہ جلد معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو میں سب کچھ اڑانے اور تیل پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو پھر آپ ان کے ملک بھر میں پلوں اور پاور پلانٹس کو گرتے ہوئے دیکھیں گے۔قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کی مہلت دی تھی اور اب وقت نکلتا جا رہا ہے اور 48 گھنٹے بعد قیامت ڈھا دی جائے گی۔امریکی صدر اس سے قبل بھی ایران کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں تاہم ثالثی کے لیے ہونے والی کوششوں کے پیش نظر وہ ان میں توسیع کا اعلان کرتے رہے ہیں۔فوجی کارروائی کے دوران دو سی 130 طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ کر دیے۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب امریکی افواج ایک گرائے گئے لڑاکا طیارے کے لاپتا عملے کے رکن کو ریسکیو کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔اس سے قبل بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ اسی آپریشن کے دوران ایک سی 130 طیارہ تباہ ہوا تھا، تاہم اب پاسدارانِ انقلاب نے مزید طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے 37 ویں روز صورتحال مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہوگئی ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر اہم پیش رفت سا منے آئی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں مار گرائے گئے ایف-15 ای جنگی طیارے کے لاپتا عملے کے ایک رکن کو ایک خطرناک ریسکیو آپریشن کے دوران بازیاب کر لیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور خصوصی فورسز نے حصہ لیا۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ اور غیر متوازن قرار دیا ہے۔خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ کویت میں ایرانی ڈرون حملوں کے باعث بجلی اور پانی کے دو بڑے پلانٹس متاثر ہوئے، جبکہ بحرین اور متحدہ عرب امارات میں بھی حملوں کے بعد ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور بعض صنعتی تنصیبات کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ادھر اسرائیل میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بجتی رہیں، جہاں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے میزائل حملے جاری ہیں۔ تل ابیب اور دیگر علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ فضائی دفاعی نظام کو مسلسل متحرک رکھا گیا۔ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جاری جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس کے ذریعے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت کو ثابت کرنے والی دو دستاویزات حاصل ہوئی ہیں۔اگرچہ آزاد میڈیا ذرائع کی طرف سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔جنوبی ایران میں ایک ڈاک کو نشانہ بنانے والے امریکی اسرائیلی حملے کی وجہ سے دو تجارتی کشتیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ایران کے میزائل حملے میں اسرائیل کے مرکز میں قائم ڈرون فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی علاقے بیتح تیکفا میں چند دن پہلے ایرانی میزائل براہ راست ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کی ڈرون فیکٹری مکمل تباہ ہوگئی۔اسرائیلی حکام کے مطابق فیکٹری دوبارہ کام نہیں کرسکےگی، فیکٹری اسرائیل کی دفاعی صنعت اور اسرائیلی فوج کو ڈرونز، پائلٹ ہیلمٹس اوربم کےپرزے فراہم کرتی تھی۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ریسکیو مشن کے دوران امریکا کے دو سی ون تھرٹی طیارے، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور کئی ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔ بی بی سی نے آپریشن میں چار ہلاکتوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ایرانی فوج نے ٹرمپ کا الٹی میٹم مسترد کردیا کہا ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں خطے کو امریکا کیلئے جہنم بنادیں گے۔عراقی مسلح دھڑوں نے دعویٰ کیا ہے انہوں نے مُلک میں 24 گھنٹوں کے دوران امریکی اڈوں کے خلاف اب تک 19 آپریشن کیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق میں اسلامی مزاحمت کے نام سے مشہور گروپ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں ہفتے کی صبح کی گئیں جس میں مختلف علاقوں میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔گروپ نے کہا کہ اس کے مسلح دھڑوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں ڈرونز اور راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے 19 آپریشنز کیے ہیں۔ تاہم گروپ نے درست اہداف یا حملوں کے نتائج کی وضاحت نہیں کی۔

ایران میں امریکی صدر کو نشانہ بنانے کیلئے کراؤڈ فنڈ مہم، 5 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جمع ہوگئی

تہران (نیوزایجنسیاں)ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے سے متعلق ایک کراؤڈ فنڈ مہم میں 5 کروڑ ڈالر سے زائد رقم جمع ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مہم کی تشہیر بڑے بل بورڈز اور ایک مخصوص ویب سائٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے جس کا مقصد امریکی صدر کے قتل کے لیے بھاری انعام مقرر کرنا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایران کی بڑی شاہراہوں پر نصب بل بورڈز میں ٹرمپ کی تصویر کو اسنائپر رائفل کی دوربین کے اندر دکھایا گیا ہے۔بینرز پر فارسی زبان میں درج ہے کہ ‘اب تک حامیوں کی جانب سے اعلان کردہ رقم: 50,541,000 ڈالر‘، جبکہ ساتھ ہی یہ جملہ بھی لکھا ہے کہ ’ٹرمپ کو جلد ہی ختم کردو‘ بھی تحریر ہے۔

ایران کی عراقی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت، باقی دنیا کیلئے پابندیاں برقرار

تہران(نیوزایجنسیاں) ایران نے اعلان کیا ہے کہ عراقی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل اجازت ہوگی اور ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جائے گی، جبکہ دیگر ممالک کے لیے کنٹرول برقرار رہے گا۔ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کو اس اہم آبی گزرگاہ میں خصوصی استثنا دیا گیا ہے اور یہ سہولت دشمن ممالک کے علاوہ دیگر کے لیے محدود ہوگی۔ بیان میں عراق کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے اس کی امریکا کے خلاف جدوجہد کو بھی سراہا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں