ملتان(واثق رؤف)ریلوے ملتان ڈویژن کاشعبہ مکینکل ماضی کی طرح تیزگام ایکسپریس حادثہ کے بعد اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایکبار پھر متحرک ہوگیا ہے۔شعبہ مکینکل کی طرف سے خطرناک حادثہ کو شعبہ سول انجینئرنگ کے کھاتے میں ڈالنے کے لئے سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپیگنڈا شروع کروا دیاگیا ہے۔گزشتہ سال بھی پاکستان،موسیٰ پاک اور عوام ایکسپریس شعبہ مکینکل کی وجہ سے خوفناک حادثات کا شکار ہوچکی ہے۔ان حادثات میں ریلوے کوچز کے کروڑوں روپے کے نقصان سمیت ڈیڑھ درجن سے زائد مسافر بھی زخمی ہوگئے تھے۔شعبہ مکینکل کی طرف سے موسی پاک اور عوام ایکسپریس کے حادثہ کو شعبہ سگنل پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تو تب موجودہ ڈویژنل مکینکل انجنیئر اور اسسٹنٹ سگنل انجینئر کے درمیان ہاتھ پائی بھی ہوگئی تھی اب ایکبار پھر تیزگام ایکسپریس حادثہ میں واضح طور پر شعبہ مکینکل کی غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے حادثہ کو ٹریک فٹنس پر ڈالنے کے لئے کوشش شروع کردی گئی ہے۔ریلوے ذرائع کے مطابق موسم سرما کے نظام الاوقات میں راولپنڈی سے کراچی کے لئے جانے والی تیزگام ایکسپریس کو ملتان سٹیشن پر20منٹ کا سٹاپ دیا گیا ہے تاکہ نہ صرف ٹرین کی بوگیوں میں پانی بھرا جاسکے بلکہ مکینکل سٹاف اس کی مکمل فٹنس بھی چیک کر سکے۔باوجود اس کے کہ عید کے بعد مسافروں کی واپسی پر غیر معمولی رش کے پیش نظر وفاقی وزیر ریلوے کی طرف سےمسافر ٹرینوں کی سیفٹی، مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے ڈویژنل افسران کو خود اسٹیشن پر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی منگل کے روز کراچی کے لئے جانے والی تیزگام ایکسپریس کو ڈویژنل مکینکل انجینئرسمیت کسی ذمہ دار آفیسر نے اٹینڈ نہیں کیا۔بتایا جاتا ہے کہ ٹرین کاوزن776ٹن تھا اور یہ 16بوگیوں پر مشتمل تھی ۔ٹرین کے ساہیوال سے روانگی کے بعد سے5ویں اور 6ویں کوچ کے درمیان جھٹکے لگ رہے تھے۔ٹرین کے ملتان پہنچنے پر کوئی سینئر اور ذمہ دار مکینکل آفیسر موجود نہیں تھا۔شعبہ کیرج اینڈ ویگن کا جو سٹاف موقع پر موجود تھا اس نے معمول کے مطابق بوگیوں میں پانی بھرا اس کی چیکنگ کی اور ٹرین کو روانہ کردیا ۔ریلوے ذرائع کے مطابق آدم واہن سٹیشن پر کوئی لوپ لائن نہیں جس کی وجہ سے ٹرین مذکورہ سٹیشن کی حدود میں جیسے ہی100کلومیٹر کی رفتار سے داخل ہوئی تو اس کی 5بوگی پیچھے والی6ویں بوگی سےعلیحدہ ہوگئی۔بتایا جاتا ہے کہ100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ٹرین کی بوگیاں جیسے ہی دو حصوں میں تقسیم ہوئیں تو بوگیوں کاپریشر ختم ہونےسےپیچھے رہ جانے والی بوگیوں کے بریک فوری طور پر لگ گئے جس کےبعدرفتار زائد ہونے کی وجہ سےانجن سے علیحدہ ہو جانے والی بوگیوں میں سے6بوگیاں ریلوے ٹریک سے اتر کر الٹ گئیں ۔تین بوگیاں ٹریک سے تو اتر گئیں تاہم الٹنے سے بچ گئی جبکہ دو بوگیاں ٹریک سے نہیں اتریں ۔بتایا جاتا ہے کہ انجن سے علیحدہ ہو کر الٹنے اور ٹریک سے اترنے والی بوگیاں(1000)ایک ہزار میٹر تک گھسٹتی گئیں جس سے ریلوے ٹریک اس میں موجود سلیپرز بھی متاثر ہوئے جبکہ الٹنے والی بوگیوں کے مسافر زخمی تو ہوئے تاہم معجزانہ طور پر کسی انسانی جان کا ضیاع نہیں ہوا۔بتایا جاتا ہے کہ ماضی کی طرح مذکورہ حادثہ بھی مکینکل شعبہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا اس غفلت کو الجھاؤ کا شکار بنانے کے لئے شعبہ مکینکل کے زمہ دار آفیسر نے ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر ٹریک خرابی کے حوالے سے6ماہ پرانے لیٹر پھیلا کر حادثہ کو شعبہ سول انجینئرنگ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی۔ریلوے ذرائع کے مطابق موجودہ ڈویژنل مکینیکل انجینئر ملتان جب سے تعینات ہوئے ہیں مسافر اور مال بردار ٹرینوں کو مکینکل مسائل کا سامنا ہے جبکہ مذکورہ ڈی ایم ای وزرات ریلوے اور ریلوے ہیڈ کوارٹر میں اثر رسوخ کو استعمال کرنا بھی خوب جانتے ہیں اس لئے اپنے شعبہ کی غفلت کو دیگر شعبوں کے کھاتے میں ڈال کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں ریلوے ذرائع کے مطابق حادثہ کا شکار ہونے والی ٹرین تیزگام سے پہلے خیبر میل،زکریا ایکسپریس،پاکستان ایکسپریس اور دیگر ٹرینیں بھی جائے حادثہ سے 100کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے ہی گزریں تاہم انہیں کچھ نہیں ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ تیزگام کی بوگی نمبر5اور6کے کلیپن کے ٹوٹنے کے باعث ہی رونما ہوا ہے۔ریلوے سٹاف اور افسران نے اس صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ملتان ڈویژن میں مکینکل شعبہ نااہلی سے مسلسل حادثات ہو رہے ہیں تو پھر ڈویژنل مکینکل انجینئر کو تبدیل کیونکر نہیں کیا جارہا۔انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے







