وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تیراہ میں شروع ہونے والا آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر، زبردستی اور جارحانہ انداز میں کیا گیا۔
سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے عمائدین اور مشران کا جرگہ منعقد ہوا، جس میں تیراہ سے منتقل ہونے والے خاندانوں کے مسائل اور ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مشران نے امن قائم کرنے اور متاثرین کی محفوظ اور باعزت نقل مکانی کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور صوبائی حکومت ان کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتیں اور مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی کارروائی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی چاہتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اب تک کئی بڑے اور ہزاروں چھوٹے آپریشنز کیے جا چکے ہیں، لیکن کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہوگا؟ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے اگر تیراہ پر نافذ کیے گئے تو وہ مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔ اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو قومی اتفاق رائے کے ساتھ مسئلہ حل کیا جا سکتا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اپنے گھر بار چھوڑے ہیں اور ایک مخصوص ذہنیت ہے جو چاہتی ہے کہ پشتون، خصوصاً قبائل مین اسٹریم سسٹم کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی میرے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع ہوا، لیکن عوامی حمایت کے باعث ہر منفی بیانیہ ناکام رہا۔
انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ بندوق کے بجائے قلم کی طاقت دیں گے، ملک کے دفاع میں ہر قربانی دیں گے اور مشکل وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے عوام کو شعور دیا ہے کہ وہ سچ اور منافقت میں فرق پہچان سکتے ہیں۔







