تھانہ کوتوالی میں پولیس گردی، اپنی عدالت لگا لی، ملزم پارٹی سے مل کر مدعیوں پر تشدد

ملتان(کرائم رپورٹر)ملتان پولیس کا انوکھا کارنامہ، انصاف مانگنے کے لئے تھانے جانیوالی فیملی کو ملزم پارٹی سے ملکر تھانہڈنڈوں،سوٹوں سے تشدد کا نشانہ بناڈالا،حوالات میں بند کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیوں نے تھانہ میں توڑ پھوڑ کی،پولیس افسران کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انکی وردیاں پھاڑ دی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سیوڑہ چوک کے رہائشی عالم شیر نے اپنی بیٹی رحمت بی بی کی شادی تقریباً ڈیڑھ سال قبل حضوری باغ روڈ کے رہائشی ارباب بھٹہ سے کی تھی جس میں سے اسکی ایک تین ماہ بیٹی بھی ہے،شادی کے کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ارباب بھٹہ نےپہلے بھی مسرت نامی خاتون سے شادی کر رکھی ہے اور وہ اسے بھی گھر لے آیا ہے۔ارباب اور مسرت دونوں ملکر رحمت بی بی کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ جس پر رحمت بی بی نے اپنے خاوند اور اسکی پہلی بیوی کے خلاف تھانہ صدر میں 25 فروری 2025 کو مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس پر پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار بھی کیا تھا۔بعدازاں میاں بیوں دونوں کے مابین صلح ہو گئی اور وہ اپنے خاوند اور اسکی پہلی بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھی کہ اسی دوران عیدالفطر کے موقع پر مسرت نامی خاتون نے رحمت بی بی پر جھوٹا مقدمہ درج کرواکر اسے جیل بھجوا دیا تھا،ضمانت ہونے پر ارباب رحمت بی بی کو دوبارہ گھر لے گیا اور اپنی پہلی بیوی کے ساتھ ملکر اسے تشدد کا نشانہ اور حبس بے جا میں رکھ لیا تھا جس پر رحمت بی بی کے والد گل شیر نے پولیس کو اپنی بیٹی کی برآمدگی کے لئے درخواست دی۔گزشتہ روز پولیس نے فون پر اسے اطلاع دی کہ اسکی بیٹی کو برآمد کرلیا گیا ہے تھانہ میں آکر اس سے ملاقات کرلو جب وہ اپنی بیوی،چھوٹی بیٹی اور بیٹے حمزہ کے ہمراہ بیٹی کو ملنے کے لئے تھانہ گیا تو وہاں پہلے سے موجود اسکے داماد اور پہلی بیوی نے اسکے بیٹے اور اہلخانہ کو پولیس ملازمین کے ہمراہ ملکر تشدد کا نشانہ بنایا اور حوالات میں بند کردیا۔رابطہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ پرانی کوتوالی مریم فیض بُچہ نے بتایا کہ دونوں پارٹیوں نے تھانہ میں لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے عمارت کے شیشے توڑ دئیے پولیس ملازمین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور انکی وردیاں بھی پھاڑ دی ہیں جس پر دونوں پارٹیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جبکہ گل شیر کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس نے ملزمان کے ہمراہ ملکر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ تھانہ کے شیشے پہلے سے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ان پر پولیس جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر تلی ہوئی ہے تاکہ ملزمان کو حمایت مل سکے۔گلشیر نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھانوں میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کو چیک کریں جو کہ انکی بے گناہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں