توانائی بچت: ملک بھر میں بازار آج سے رات 8 بجے بند، شہریوں کیلئے ماہانہ پٹرول کوٹہ مقرر-توانائی بچت: ملک بھر میں بازار آج سے رات 8 بجے بند، شہریوں کیلئے ماہانہ پٹرول کوٹہ مقرر-ملتان، خان گڑھ: پابندی بوکاٹا، قاتل ڈور نے دو گردنیں کاٹ دیں، پولیس کا حدود کا جھگڑا-ملتان، خان گڑھ: پابندی بوکاٹا، قاتل ڈور نے دو گردنیں کاٹ دیں، پولیس کا حدود کا جھگڑا-ایچ ای سی: ایم ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی فعال پروگرامز کی تازہ فہرست جاری، طلبہ کو انتباہ-ایچ ای سی: ایم ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی فعال پروگرامز کی تازہ فہرست جاری، طلبہ کو انتباہ-راجن پور: ڈیڑھ ارب کے منصوبوں میں میگا کرپشن، ایکسین اور ایس ڈی او کو ڈیل پر ڈھیل-راجن پور: ڈیڑھ ارب کے منصوبوں میں میگا کرپشن، ایکسین اور ایس ڈی او کو ڈیل پر ڈھیل-مریم نواز کا پنجاب کوٹ ادو میں غیر محفوظ، اقراری بولا گینگ پولیس، سی سی ڈی کیلئے چیلنج-مریم نواز کا پنجاب کوٹ ادو میں غیر محفوظ، اقراری بولا گینگ پولیس، سی سی ڈی کیلئے چیلنج

تازہ ترین

توانائی بچت: ملک بھر میں بازار آج سے رات 8 بجے بند، شہریوں کیلئے ماہانہ پٹرول کوٹہ مقرر

اسلام آباد،لاہور،کراچی(بیورورپورٹ،سٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت نے توانائی بچت کیلئے ملک بھر میں بازار، مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق آج 7 اپریل سے ہوگا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات ، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالےسے اہم جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بازار، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔شرکا کو بتایا گیا کہ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی دکانیں، ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور ہر قسم کے مالز بھی رات 8 بجے بند ہوں گے جبکہ بیکریاں، ریسٹورنٹ تندوراور کھانے پینے کی دیگر دکانیں رات دس بجے بند کر دی جائیں گی۔شادی ہالز، مارکیز، اور دیگر کمرشل جگہیں جن میں شادیاں منعقد ہوتی ہیںرات 10 بجے کے بعد بند رہیں گی، نجی پراپرٹیز اور گھروں میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات 10 بجے رات کے بعد منعقد کرنے پر پابندی ہو گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے جبکہ فیصلوں کا اطلاق آج 7 اپریل سے ہوگا۔اجلاس میں شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ صوبہ سندھ میں مارکیٹس اور دیگر اوقات کار کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی مد میں دی گئی سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک 1 لاکھ ٹرانزیکشن ہو چکی ہیں۔اجلاس کے شرکا سے گفتگو میں وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ پنجاب، خیبر پختونخوا ،بلوچستان، گلگت بلتستان اور وزیراعظم کا آزاد جموں و کشمیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی اہمیت کے ان اہم معاملات میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ سندھ حکومت کےسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، مجھے امید ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی اس حوالے سے جلد مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد اس فیصلے میں شامل ہو جائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گلگت شہر اور مظفرآباد شہر میں انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لئے مفت ہو گی اور تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔دوسری جانب پنجاب میںپٹرولیم مصنوعات پرسبسڈی ہر موٹرسائیکل مالک کو نہیں ملے گی ، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ ایک سے زائد موٹر سائیکلوں کے مالک اور کار رکھنے والے موٹر سائیکل مالک کے حوالہ سے ضابطہ طے کررہے ہیں، کاشتکاروں کو فیول سبسڈی کسان کارڈ کے ذریعے ملے گی ۔تفصیلات کے مطابق کاشتکاروں کو فیول سبسڈی کسان کارڈ کے ذریعے ملے گی، جن کاشتکارون نے کسان کارڈ نہیں بنایا وہ فوری کارڈ بنوالیں، اشیائے خورونوش کے حوالہ سے وزیر اعلی مریم نواز بہت کنسرن رہتی ہیں، بیرون ملک سے دالیں آنے میں تاخیر کے باعث کچھ مشکلات ہیں، دالوں کے حوالہ سے درپیش مشکلات کے حل کیلئے کوشاں ہیں، چنے کی نئی فصل جلد آ جائیگی جس سے حالات بہتر ہو جائیں گے، حکومت اکیلی کچھ نہیں کر سکتی ۔اس ناگہانی صورتحال میں عوام ساتھ دے، ناجائز منافع خوری سے پرہیزکریں ورنہ پیرافورس سمیت دیگر ادارے کارروائی کرینگے۔ دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو ذاتی گاڑیوں کے لیے پیٹرول کا باقاعدہ کوٹہ مقرر کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کے نفاذ کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جب کہ پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے جدید موبائل فونز کی فراہمی کا عمل بھی حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔وزارتِ آئی ٹی نے پمپس پر فراہم کیے جانے والے موبائل فونز کی جانچ مکمل کر لی ہے اور نیشنل آئی ٹی بورڈ (این آئی ٹی بی) نے خریدے جانے والے موبائل ڈیوائسز کے معیار اور آپریشنل کارکردگی کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے۔حکام کے مطابق موبائل فونز پر فیول مینجمنٹ ایپلیکیشن کی ٹیسٹنگ بھی مکمل ہو چکی ہے جب کہ اس حوالے سے تمام تفصیلات وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے کابینہ ڈویژن کو ارسال کر دی گئی ہیں۔اوگرا نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ موبائل فونز کی خریداری یقینی بنائیں۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 36 ہزار روپے مالیت کے موبائل ڈیوائسز فراہم کیے جائیں گے، جن کی لاگت آئل مارکیٹنگ کمپنیاں خود برداشت کریں گی۔نیشنل آئی ٹی بورڈ موبائل فونز خرید کر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے کرے گا جب کہ یہ کمپنیاں متعلقہ فیول اسٹیشنز پر ان موبائل ہینڈ سیٹس کی تقسیم کریں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور اس کے تحت جدید موبائل ہینڈ سیٹس کے ذریعے فیول کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔این آئی ٹی بی نے موبائل فونز کی خریداری کے لیے اظہارِ دلچسپی طلب کیا تھا، جس کے بعد مختلف کمپنیوں کے ساتھ مشاورت کر کے موبائل ڈیوائسز کی قیمت بھی طے کر لی گئی ہے۔حکومت جلد ہی گاڑیوں کے لیے پیٹرول کوٹہ کا باضابطہ اعلان کرے گی جسے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی تیار کردہ موبائل ایپ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔نئے نظام کے تحت کسی بھی شہری کو مقررہ کوٹہ سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ادھرحکومت نے اپنے اتحادیوں کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اعتماد میں لیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی یہاں بھی پیٹرولیم نرخوں میں کمی کردی جائے گی۔حکمران اتحاد کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، ریاض پیرزادہ، بیرسٹر عقیل ملک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت دیگر جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پارلیمانی پارٹی کو موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے فوری اقدامات اٹھائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں