توانائی بحران: پنجاب میں تعلیمی ادارے 15 اپریل تک بند، پیٹرول کیلئے کوپن سسٹم کی تجویز

ملتان،لاہور( خصوصی رپورٹر،وقائع نگار، بیورو رپورٹ)امریکا،اسرائیل ،ایران جنگ کے باعث ملک میں جاری توانائی بحران کے معاملے پر پنجاب حکومت نے صوبے میں اہم فیصلوں کی تیاری کر لی۔ذرائع کے مطابق محکمہ توانائی پنجاب نے صوبائی حکومت کو نئی سفارشات بھجوا دی ہیں جس میں وفاق کی طرز پر فیول راشننگ کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 15اپریل تک تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی سفارش بھی کی گئی ہے اور سکولوں میں ہائبرڈ نظام تعلیم پر غور کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔موجودہ تعطیلات جو 31 مارچ تک جاری ہیں، ان میں توسیع کر کے 15 اپریل تک کر دی جائیں گی، جس کے تحت تمام سرکاری اور نجی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند رکھا جائے گا جبکہ تعلیمی سرگرمیاں ہائبرڈ نظام کے تحت جاری رہیں گی یعنی بیشتر تعلیم آن لائن ہوگی اور صرف لیبارٹری یا عملی کام کے لیے ہفتے میں ایک یا دو دن طلبہ کو بلایا جا سکے گا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی منصفانہ تقسیم کے لیے کوپن یا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے، مخصوص دنوں میں محدود گاڑیوں کو ایندھن فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نجی اداروں کے لیے ورک فرام ہوم کے لیے سخت ہدایات کی سفارشات بھی تجاویز میں شامل ہیں جبکہ غیر ضروری تقریبات پر مکمل پابندی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے پنجاب حکومت سے میٹرو اور بس سروس بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ایل ای ڈی بل بورڈز اور آرائشی لائٹس بند کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے جبکہ رات 10 بجے کے بعد سٹریٹ لائٹس متبادل موڈ پر چلانے کی سفارش کی گئی ہے اور مارکیٹ اوقات کار کو مزید محدود کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت بجلی، ایندھن اور دیگر آپریشنل اخراجات کم کرنے کے لیے عملہ محدود کرنے سمیت اہم فیصلے کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق اہم فیصلے مشرق وسطیٰ (ایران جنگ) سے پیدا ہونے والے توانائی بحران اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لیے گئے ہیں، سرکاری دفاتر اب صرف پیر سے جمعرات (4 دن) کھلے رہیں گے۔اِسی طرح جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہو گی جبکہ بینکوں، ہسپتالوں، صنعت اور زراعت جیسے ضروری شعبوں پر یہ اطلاق نہیں ہو گا۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق دفاتر میں ایک وقت میں صرف 50 فیصد عملہ حاضر ہو گا، باقی 50 فیصد ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کرے گا۔پہلا گروپ 50 فیصد پہلے دو دن (مثلاً پیر-منگل) دفتر آئے گا اور باقی دن گھر سے کام کرے گا، دوسرا گروپ اگلے دو دن (بدھ-جمعرات) دفتر آئے گا اور باقی دن گھر سے کام کرے گا۔خیال رہے کہ ورک فرام ہوم ماڈل نافذ کرنے کی تیاری مکمل ہے تاہم اہم وزارتوں اور محکموں میں نئے شیڈول کا اطلاق آج سے شروع ہو گا۔دوسری جانب تعلیمی اداروں کی بندش میں اضافےکے فیصلے پر والدین اور اساتذہ تنظیموں نے ملا جلا ردعمل دیا ہے اور پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے فیسوں اور تنخواہوں کے حوالے سے حکومت سے رہنمائی طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ اگر تعطیلات میں یہ توسیع حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو بورڈز کے سالانہ امتحانات کے شیڈول میں بھی ممکنہ طور پر نظر ثانی کی جائے گی۔ والدین اور اساتذہ کا بھی یہی کہناہے کہ میڑک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سر پر آگئے ہیں جبکہ بچوں کی تیاری مکمل نہیں حکومت سارے مسائل کو سامنےرکھ کرفیصلہ کرے اور بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنائے ۔وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور متعلقہ حکام اس حوالے سے ابھی کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم طلبہ کی صحت، توانائی کے وسائل کے محفوظ استعمال اور مجموعی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر چھٹیاں بڑھائی گئیں تو محکمہ تعلیم ہائبرڈ کلاسز یا آن لائن مواد کے ذریعے تعلیمی نقصان پورا کرنے کا پلان بھی تیار کر رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں