توانائی بحران اور عالمی امن کو لاحق خطرات

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں کسی بھی لمحے صورتحال ایک وسیع عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کو بھی شدید خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ اگر یہ جنگ طول پکڑ گئی تو دنیا ایک بڑے توانائی بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔
قطر کے وزیرِ توانائی سعد بن شریدہ الکعبی نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری تنازع برقرار رہا اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو خلیجی ممالک چند ہفتوں کے اندر توانائی کی برآمدات روکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان کسی عام خدشے کا اظہار نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔ قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس (LNG) کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور عالمی گیس سپلائی کا تقریباً بیس فیصد اسی ملک سے فراہم ہوتا ہے۔ اگر اس سپلائی میں تعطل پیدا ہوا تو یورپ اور ایشیا کی بڑی معیشتیں شدید توانائی بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایران کے جوابی حملوں کے بعد قطر نے عارضی طور پر ایل این جی کی پیداوار روک دی۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں اور ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوئی تو دو سے تین ہفتوں کے اندر خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوا تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی بلکہ عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو گی۔اس تمام صورتحال کے پس منظر میں امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری تنازعات کی ایک بڑی وجہ یہی طاقتیں رہی ہیں جو خطے میں اپنی سیاسی و عسکری برتری قائم رکھنے کے لیے مسلسل دباؤ اور مداخلت کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات نے اس خطے کو ایک نئے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ جب کسی ملک پر مسلسل دباؤ ڈالا جائے، اس کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور اس کی سرزمین یا مفادات کو نشانہ بنایا جائے تو اس کا ردعمل فطری امر ہوتا ہے۔ ایران کے حالیہ جوابی اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔ قطر کے وزیر توانائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ چند ہفتے بھی جاری رہی تو عالمی جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہوگی، توانائی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، صنعتی پیداوار میں رکاوٹیں آئیں گی اور سپلائی چین کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ ہماری معیشت پہلے ہی درآمدی ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ براہ راست مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ ملک میں توانائی کے ذخائر کس حد تک موجود ہیں اور کسی ممکنہ بحران سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔اجلاس میں حکومت نے صوبوں کو ہدایت دی کہ پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جو پٹرول پمپ اس غیر قانونی عمل میں ملوث پایا جائے اس کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ رئیل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے صورتحال پر نظر رکھی جا سکے۔تاہم یہ اقدامات وقتی انتظامی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال ہے جسے روکنا عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو یہ تنازع ایک ایسی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف اور سفارتکاری سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ ایران کو دیوار سے لگانے کی پالیسی نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف قدم بڑھائے۔ توانائی کی عالمی منڈی پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے اور اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو اس کے اثرات ہر ملک کی معیشت پر پڑیں گے۔مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی امن اور معاشی استحکام کا امتحان ہے۔ اگر بڑی طاقتوں نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ تنازع نہ صرف توانائی بحران کو جنم دے گا بلکہ دنیا کو ایک ایسے عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں