خانیوال(کرائم سیل)تلمبہ کے نجی طلحہ سرجیکل ہسپتال سے تین روز قبل لاپتہ اور مبینہ طور پر اغوا ہونے والا چار سالہ بچہ بالآخر مل گیا۔ ذرائع کے مطابق بچے کو ایک نامعلوم شخص انیس چک والے موڑ کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گیا۔مقامی افراد نے بچے کو دیکھ کر فوری طور پر اہلِ خانہ کو اطلاع دی، جس کے بعد بچے کو محفوظ طریقے سے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔ بچے کی بازیابی کی خبر سامنے آتے ہی اہلِ علاقہ اور ورثا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔یاد رہے کہ بچے کے اہلِ خانہ گزشتہ تین روز سے طلحہ سرجیکل ہسپتال کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے تھے اور اپنے بچےحمیداللہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔تاہم اس تمام صورتحال میں پولیس کی کارکردگی اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہےکیونکہ تین روز گزرنے کے باوجود مبینہ اغوا کار یا اس واقعے میں ملوث افراد کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بچے کا اچانک موڑ کے قریب چھوڑا جانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، جن کے جواب سامنے آنا ضروری ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے اصل ملزمان کو بے نقاب کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس خود کو کامیابی کا کریڈٹ دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن شہری حلقوں اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ خام کریڈٹ ہے، کیونکہ بچے کی بازیابی میں پولیس کا کردار مبہم اور ناکام رہا۔ شہری حلقوں نے اعلیٰ افسران ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کامران خان، آئی جی پنجاب اور آر پی او ملتان سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مقامی پولیس کی ناکامی کو اجاگر کیا جا سکے اور اصل اغوا کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔







