ملتان (کرائم سیل) تلمبہ میں نجی ہسپتال کی آڑ میں خواتین کی فحش ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے والے گروہ کے سرغنہ اور مقامی صحافی ایاز سہو کی برادری اور خاندان اس واقعے کے بعد سے اب تک تقریبا 70 لاکھ روپیہ ادھر ادھر سے جمع کر کے خرچ کر چکا ہے۔ مصدقہ ذرائع نے بتایا ہے کہ سی سی ڈی خانیوال کے انسپکٹر شاہد گجر بھی خصوصی طور پر خانیوال سے تلمبہ آئے اور انہوں نے تھانہ تلمبہ میں پولیس کی حراست میں ملزم ایاز سہو کا بیان لیا اور فحش مواد بھی حاصل کیا مگر اسی دوران ان کے معاملات رانا صغیر نامی ٹائوٹ کے ذریعے طے ہو گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ مبینہ طور پر چھ لاکھ روپے میں ڈیل ہوئی جس کے بعد ایاز سہو کا نیفہ محفوظ رہ گیا۔ سی سی ڈی کا خطرہ ٹلنے اور گرین سگنل ملنے کے بعد ایس ایچ او بھی ملزم کے سہولت کاری کی طرف راغب ہو گئے اور آئی فون موبائل میں موجود مواد بھی موبائل سمیت ملزم کو واپس کر دیا گیا پھر نہ فرانزک ہوئی اور نہ ہی متاثرہ فریق کی دادر سی جبکہ ایاز سہو کی گرفتاری کے بعد تلمبہ سے فرار ہو کر اسلام آباد میں پناہ لینے والے عامر سہو بھی سب اچھا کی رپورٹ کے بعد واپس آ گئے۔







