ملتان (سٹاف رپورٹر) پورے ملک کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں انتظامی افراد ڈائریکٹر ،پرنسپل ،چیئرمین، خزانچی کنٹرولر، رجسٹرار وغیرہ اپنے آپ کو استاد کی کیٹیگری میں رکھ کر مختلف حیلے بہانوں اور طریقوں سے ٹیکس میں چھوٹ وصول کرنے لگے اور ایف بی آر اس حوالے سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے خسارے کا سامنا ہے ایسی ایک مثال سامنے آئی ہے جس میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ساہیوال کیمپس کی انتظامیہ نے مبینہ طور پر ایف بی آر کو دھوکہ دیتے ہوئے مختلف طریقوں سے ٹیکس چوری کرنا شروع کر رکھا ہے تفصیل کے مطابق ایف بی آر کے قوانین کے مطابق ہر ود ہولڈنگ ایجنٹ کو متعلقہ ٹیکس یا کٹوتی کی تفصیلات ہر تین ماہ کے اندر جمع کرانا ہوتی ہیں اور اس حوالے سے فل ٹائم اساتذہ یا محققین کے لیے 25 فیصد کی چھوٹ پہلے ہی فنانس آرڈیننس 2022 کے ذریعے ختم کر دی گئی تھی مگر کامسیٹس یونیورسٹی ساہیوال کیمپس کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے کیمپس ڈائریکٹر ڈاکٹر نذیر احمد نے بذات خود بھی مختلف طریقوں سے ٹیکس ریبیٹ جو کہ صرف اور صرف اساتذہ کو جون 2023 تک حاصل تھی انہوں نے وہ ٹیکس ریبیٹ نہ صرف اساتذہ کے لئے بلکہ ٹیکس چوری کا ایک نیا طریقہ کار اپناتے ہوئے خود بھی ٹیکس ریبیٹ وصول کرنا شروع کر دی۔ چونکہ ٹیکس ریبیٹ صرف اور صرف اساتذہ یا محققین کو حاصل تھا اور انتظامی عہدے کے کسی فرد کو ٹیکس ریبیٹ کی چھوٹ حاصل نہ تھی تو کیمپس ڈائریکٹر ڈاکٹر نذیر احمد نے ٹیکس ریبیٹ وصول کرنے کے لیے ایک کورس پڑھانا شروع کیا اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ میں چونکہ ایک کورس پڑھا رہا ہوں تو مجھے بھی ٹیکس چھوٹ اساتذہ والی ملنی چاہیے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ ڈپٹی خزانچی ڈاکٹر انیس حیدر نے ڈاکٹر نذیر احمد کو کہا کہ چونکہ اپ ایک انتظامی افسر ہیں تو اپ یہ ٹیکس چھوٹ وصول نہیں کر سکتے اس پر ڈاکٹر نذیر احمد نے سابقہ ڈپٹی خزانچی ڈاکٹر انیس حیدر کو دباؤ میں لا کر اساتذہ اور محققین کو حاصل ٹیکس ریبیٹ وصول کرنا شروع کر دیا۔ سابقہ ڈپٹی خزانچی ڈاکٹر انیس حیدر نے بھی ڈائریکٹر کیمپس ڈاکٹر نظیر احمد کی دیکھا دیکھی خود بھی ایک کورس پڑھانا شروع کر دیا اور اسی بہانے انہوں نے بھی اساتذہ کو حاصل ٹیکس ریبیٹ وصول کرنا شروع کر دیا یہ معاملات ایف بی ار کے نوٹس میں ائے تو انہوں نے ڈائریکٹر کیمپس ڈاکٹر نذیر احمد کو خط لکھا جس پر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور ٹیکس کی تفصیلات بھی جمع نہ کروائی گئی جس پر متعدد بار خطوط لکھے گئے اور اخر کار پرنسپل سیٹ کامسیٹس یونیورسٹی کو خط لکھا گیا جن کی ہدایات پر کامسیٹس یونیورسٹی ساہیوال کیمپس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نذیر احمد نے ٹیکس کی تفصیلات اور ان میں چھوٹ کی تفصیلات بھی ایف بی ار کو جمع کروا دیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ تعلیمی اداروں میں بیٹھے ہوئے افراد بھی دوسرے اداروں کی طرح دھوکہ دہی میں ملوث پائے جا رہے ہیں جس پر تعلیمی حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے جو کہ نہ صرف قومی خزانے کا سراسر نقصان ہے بلکہ ڈائریکٹر کیمپس کی باوقار اسامی پر بیٹھے افراد کے شایان شان نہیں ہے۔ اس خبر پر موقف کے لیے جب ساہیوال کیمپس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نذیر احمد سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ خبر سراسر غلط ہے اور ٹیکس ایف بی آر کے قوانین کے تحت کاٹا جا رہا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات رہتے ہوئے کسی قسم کا ٹیکس ریبیٹ وصول کرتے رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے جو جواب دینا تھا وہ دے دیا ہے۔ ان سے ایک بار پھر پوچھا گیا تو انہوں نے مزید جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آپ ڈپٹی رجسٹرار رانا عدیل عباد سے بات کر لیں۔ یہ امر توجہ طلب ہے کہ رجسٹرار کا اکاؤنٹس اور ٹیکس ریبیٹ معلومات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔






