تعلیمی اداروں،حکومت یونیورسٹیوں کو سالانہ اربوں کا خسارہ ،ایچ ای سی مکمل بربادی کی منتظر

تعلیمی اداروں،حکومت یونیورسٹیوں کو سالانہ اربوں کا خسارہ ،ایچ ای سی مکمل بربادی کی منتظر

ملتان (ریسرچ سیل) دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے منفرد پہچان رکھنے والی برطانوی یونیورسٹیوں نے غیر ضروری ڈیپارٹمنٹس بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس کا آغاز برطانیہ کی معروف پبلک سیکٹر یونیورسٹی یونیورسٹی آف ہل نے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرتے ہوئے مختلف ڈیپارٹمنٹس کو ایک دوسرے میں ضم کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے تمام ڈیپارٹمنٹس جن میں طلباء و طالبات کی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے ، برطانوی یونیورسٹیاں اسے مرحلہ وار ختم کر رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کی بیشتر سرکاری یونیورسٹیز میں مختلف شعبہ جات میں ایڈمیشن نہ ہونے کے برابر ہونے کے باوجود اساتذہ کو مفت میں کروڑوں روپے ماہوار تنخواہیں سالہا سال سے دی جا رہی ہیں جبکہ گورنمنٹ اور ایچ ای سی کی مناسب منصوبہ سازی نہ ہونے کے باعث تعلیمی اداروں، گورنمنٹ اور یونیورسٹیوں کو سالانہ اربوں روپے خسارے کا سامنا ہے، رہا معاملہ حکومتوں کا تو حکومت تب نوٹس لیتی ہے جب کوئی یونیورسٹی یا شعبہ جات مکمل طور پر بربادی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ 10 روز قبل این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے سابقہ وائس چانسلر اختر علی ملک کی غلط پالیسیوں اور منفی اقدامات کا نوٹس لیتے ہوئے نقصان میں جانے والے مختلف شعبہ جات فزکس، کیمسٹری، کریمنالوجی وغیرہ کو بند کرنے کا عندیہ دے کر یونیورسٹی کو مزید نقصانات سے بچا لیا ۔ اسی طرح کی پالیسیوں سے دوسری یونیورسٹیوں کو بھی مزید نقصانات سے بچایا جا سکتا ہے۔ مگر ہائر ایجوکیشن کمیشن اس حوالے سے مکمل طور پر خاموش ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کل 250 کے قریب ڈگری پروگرامز ہیں مگر ان میں ایڈمیشن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی لیے اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے نقصانات کو پورا کرنے لیے مختلف بینکوں سے سود پر قرض اٹھانا پڑتا ہے اور یہی حال پاکستان کی باقی یونیورسٹیوں میں بھی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ برطانوی یونیورسٹیاں اپنے مختلف ڈیپارٹمنٹس کو ایک دوسرے میں ضم کر رہی ہیں اور بعض ڈیپارٹمنٹس میں مختلف مضامین کو ایک ڈگری میں پڑھایا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں