ترنڈہ محمد پناہ ( نمائندہ خصوصی) ترنڈہ پولیس کے سوشل میڈیا’ فنکار کانسٹیبلز ‘‘چھا گئے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر باوردی ایکٹیویٹی پر حکومتی پابندی کے باوجود ” شیر جوان ” مختلف دھنوں پر جلوہ افروز ہونے لگے، ڈی پی او رحیم یار خان کی تاحال خاموشی جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف، علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر، سوشل میڈیا پر وقت گزاری کرنے کی بجائے فرائض منصبی پر توجہ دیکر وارداتوں میں کمی لائیں اور قانون شکنی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جا ئے، عوامی مطالبہ۔ترنڈہ پولیس کے چند اہلکاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیاں موضوعِ بحث بن گئیں۔ ذرائع کے مطابق’’فنکار کانسٹیبلز‘‘کے نام سے مشہور باوردی اہلکار جن میں شفیق گورگیج کانسٹیبل، سید مطلوب حسین شاہ کانسٹیبل، شہباز کانسٹیبل، خالد خان بھیلہ کانسٹیبل مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گیتوں کے ساز پر ویڈیوز کے جوہر دکھاتے ہوئے دیکھے گئے ہیںحالانکہ سرکاری وردی میں ایسی سرگرمیوں پر حکومتی سطح پر پابندی عائد ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’’شیر جوان‘‘ کہلانے والے یہ اہلکار مختلف دھنوں پر ایکٹیویٹی کرتے نظر آئے، جس پر مقامی شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا پر وقت گزارنے کے بجائے جرائم کی روک تھام اور اپنے فرائض منصبی پر توجہ دینی چاہیے۔ واقعے پر پنجاب پولیس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ رحیم یار خان کے ڈی پی او عرفان علی سموں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہ آنے کو شہریوں نے معنی خیز خاموشی قرار دیا ہے، جو بقول عوام جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ علاقہ مکینوں کا مطالبہ ہے کہ قانون شکنی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور علاقے میں بڑھتے جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔ دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیںجبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اہم پیش رفت بھی متوقع ہے۔







