ملتان(سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی جامعات ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی ساکھ قائم رکھنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں جنوبی پنجاب کی چار جامعات نے جگہ بنائی تھی مگر تازہ ترین کیو ایس (QS) عالمی اور ایشیائی یونیورسٹی رینکنگ میں صرف دو سرکاری ادارے ہی اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف خطے کے تعلیمی معیار پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ اس بات کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ جنوبی پنجاب کی جامعات تحقیق، معیارِ تعلیم اور عالمی روابط کے میدان میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ ٹائمز رینکنگ 2026 میں جنوبی پنجاب کی چار سرکاری جامعات شامل تھیں: بہا الدین زکریا یونیورسٹی (BZU) ملتان – 601–تا800 بینڈ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (IUB) – 801تا1000بینڈ، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (KFUEIT) – 801تا1000بینڈ، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگری کلچر (MNSUA) 1201تا1500بینڈ، تاہم کیو ایس رینکنگ 2025–۔26 میں صرف BZU اور IUB عالمی سطح پر برقرار رہ سکیںجبکہ خواجہ فرید یونیورسٹی اور محمد نواز شریف یونیورسٹی صرف ایشیائی فہرست میں موجود ہیں۔ BZU کا عالمی بینڈ 1201–تا1400 اور ایشیائی درجہ 354 ہے جب کہ IUB کا عالمی بینڈ 1401+ اور ایشیائی درجہ 434 ہے۔ دوسری جانب KFUEIT کا ایشیائی درجہ 564 اور MNSUA کا 901تا950ہےمگر دونوں عالمی فہرست سے باہر ہو چکی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق جنوبی پنجاب کی جامعات کی سب سے بڑی کمزوری تحقیقی سرگرمیوں کی کمی اور بین الاقوامی تعاون کا فقدان ہے۔ بیشتر جامعات میں ریسرچ پیپرز کی اشاعت، عالمی جریدوں میں نمائندگی اور انڈسٹری کے ساتھ شراکت داری نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جیسے پرانے ادارے بھی اپنی ترقی کو برقرار رکھنے میں جدوجہد کر رہے ہیںجبکہ نئی جامعات مثلاً خواجہ فرید یونیورسٹی اور محمد نواز شریف یونیورسٹی ابھی تک عالمی سطح پر کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکیں۔ ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنوبی پنجاب کی جامعات کے پاس بنیادی ڈھانچہ تو موجود ہے مگر وژن کی کمی ہے۔ یہاں تحقیق محض کاغذی کارروائی تک محدود ہے اور عالمی معیار کے مطابق فیکلٹی کی کمی واضح ہے۔مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کی کوئی بھی نجی یونیورسٹی نہ تو ٹائمز اور نہ ہی کیو ایس کی عالمی یا ایشیائی درجہ بندی میں شامل ہو سکی۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ نجی ادارے تعلیم کو کاروبار تو بنا چکے ہیں، مگر تحقیقی معیار اور بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ ایک ماہر تعلیم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: جنوبی پنجاب میں نجی جامعات کی ترجیح صرف داخلے بڑھانا اور فیسیں وصول کرنا ہے نہ کہ عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی رینکنگ میں ان کا کہیں ذکر نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوبی پنجاب کی جامعات نے اپنے تحقیقی نظام، فیکلٹی ڈویلپمنٹ، بین الاقوامی روابط اور نصاب کی جدت پر توجہ نہ دی تو آنے والے سالوں میں ان کی درجہ بندی مزید نیچے جا سکتی ہے۔BZU اور IUB کے عالمی درجہ بندی میں برقرار رہنے کے باوجود ان کی پوزیشنز میں بہتری نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ رفتار ناکافی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جامعات محض درجہ بندی کا حصہ بننے کے بجائے تحقیقی معیار، عالمی شراکت داری اور طلبہ کی عملی تربیت پر فوکس کریں۔ جنوبی پنجاب کی جامعات کا عالمی سطح پر کمزور پڑنا لمحہ فکریہ ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو یہ خطہ نہ صرف علمی طور پر پیچھے رہ جائے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی تعلیمی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ نجی اداروں کی مکمل غیر موجودگی اور سرکاری جامعات کی گرتی کارکردگی یہ واضح کرتی ہے کہ جنوبی پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو ازسرِنو منظم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب کی جامعات کو اب محض نام کے بجائے معیار کی بنیاد پر پہچان بنانا ہوگی۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ عالمی درجہ بندیوں میں اس خطے کا نام اور بھی نیچے چلا جائے گا۔







