تجارتی خسارہ: معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی

مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 فیصد اضافے کے ساتھ 25 ارب ڈالر تک پہنچ جانا محض ایک عددی خبر نہیں بلکہ معیشت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ جب درآمدی بل برآمدات سے دگنا سے بھی زیادہ ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی دنیا پر حد سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ یہ صورتحال زرمبادلہ کے ذخائر، کرنسی کی قدر اور مجموعی معاشی استحکام پر براہِ راست دباؤ ڈالتی ہے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا فروری کے دوران درآمدات 8.1 فیصد بڑھ کر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات 7.3 فیصد کمی کے بعد 20.46 ارب ڈالر رہ گئیں۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ معیشت پیداوار اور برآمدی مسابقت کے محاذ پر پیچھے جا رہی ہے، جبکہ کھپت اور درآمدی انحصار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بیرونی قرضوں پر انحصار مزید بڑھے گا۔
فروری کے اعداد و شمار بھی حوصلہ افزا نہیں۔ سال بہ سال بنیاد پر خسارہ تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 25 فیصد سے زائد کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ برآمدی شعبہ نہ صرف عالمی منڈیوں میں دباؤ کا شکار ہے بلکہ اندرونی مسائل، جیسے توانائی کی بلند لاگت، خام مال کی کمی اور پالیسی عدم تسلسل بھی اس پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ درآمدات میں معمولی کمی کے باوجود مجموعی فرق برقرار ہے، جو ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔خدمات کے شعبے میں برآمدات میں تقریباً 19 فیصد اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے، مگر اس کے ساتھ درآمدات میں 17.5 فیصد اضافہ خسارے کو کم کرنے میں ناکام رہا۔ یوں خدمات کا خسارہ بھی 14 فیصد بڑھ کر 2.07 ارب ڈالر ہو گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل اور پیشہ ورانہ خدمات کے فروغ کے باوجود ملک اب بھی بیرونی خدمات پر زیادہ خرچ کر رہا ہے۔
معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال تین بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اول، برآمدات کا محدود تنوع؛ پاکستان اب بھی چند روایتی اشیا پر انحصار کرتا ہے۔ دوم، صنعتی مسابقت کی کمی؛ توانائی اور مالیاتی لاگت خطے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سوم، درآمدی ڈھانچے میں اصلاحات کی کمی؛ غیر ضروری اور تعیشی اشیا کی درآمد پر مؤثر کنٹرول نظر نہیں آتا۔حکومت کو فوری طور پر برآمدی شعبے کے لیے ہدفی مراعات، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور نئی منڈیوں تک رسائی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ساتھ ہی درآمدی متبادل صنعتوں کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ مقامی پیداوار بڑھے اور زرمبادلہ کی بچت ہو۔ صرف عارضی انتظامی اقدامات یا شرح مبادلہ پر دباؤ ڈال کر مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ اس کے لیے جامع صنعتی اور تجارتی پالیسی درکار ہے۔اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ معیشت کو دوبارہ بیرونی مالیاتی دباؤ اور سخت شرائط والے قرضوں کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پالیسی ساز دیرپا اور ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو برآمدات پر مبنی پائیدار راستے پر ڈالیں، ورنہ خسارے کا یہ دائرہ مزید وسیع ہوتا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں