ملتان (سہیل چوہدری سے) 23 ارب روپے کا سیلز ٹیکس ریفنڈ سکینڈل ایف بی آر آفیسر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا لاہور میں اربوں روپے کا ٹیکس فراڈ بے نقاب، اعلیٰ افسران کی انکوائری مکمل قومی خزانے کو 23 ارب روپے کا نقصان سیلز ٹیکس آفیسر قصور وار قرار سیلز ٹیکس ریفنڈ میں سنگین بے ضا طگیاں یوم تکبیر پر اربوں روپے کا ریفنڈ جاری محکمانہ انکوائری میں حقائق سامنے آگئے پوسٹ ریفنڈ اڈٹ کے بغیر ادائیگی ایف بی آر آفیسر پر سنگین الزامات تفصیل کے مطابق لاہور میں سیلز ٹیکس ریفنڈ کے نام پر قومی خزانے کو 23 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچانے کا بڑا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا۔ اندرونی محکمانہ انکوائری میں سیلز ٹیکس آفیسر شیرازہ حمید کو میسرز گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ کو غیر قانونی اور ناقابلِ قبول سیلز ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف ملازمت سے برطرفی سمیت بڑی تادیبی سزا کی سفارش بھی کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق شیرازہ حمید نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور متعلقہ ایس آر اوز کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمپنی کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیم نمبر D8ZD23898 پر کارروائی کی۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریفنڈ کلیم میں شامل ان پٹ ٹیکس کی بڑی رقم پہلے ہی ریکارڈ کی سطح پر ناقابلِ قبول قرار دی جا چکی تھی، اس کے باوجود اربوں روپے کا ریفنڈ منظور کر کے جاری کر دیا گیا۔انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 3 اپریل 2024 کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز زیر التوا ہونے کے باوجود، اور حتمی حکم جاری ہونے سے قبل، 28 مئی 2024 کو عام تعطیل (یومِ تکبیر) کے روز ریفنڈ آرڈر جاری کیا گیا، جسے قواعد کے منافی اور بدنیتی پر مبنی اقدام قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملزمہ شیرازہ حمید نے فریٹ سروسز پر ان پٹ ٹیکس کے مبالغہ آمیز دعووں کا نہ تو تجزیہ کیا اور نہ ہی انہیں اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ لینڈ فریٹ ریگولرائزیشن مارجن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز (OMCs) کو کی جانے والی سپلائی سے موازنہ کیا۔ مزید یہ کہ فائل کو صرف کاغذی طور پر پوسٹ ریفنڈ آڈٹ کے لیے نشان زد کیا گیا، لیکن اسے دانستہ طور پر متعلقہ پوسٹ ریفنڈ سیل کو نہیں بھجوایا گیا، تاکہ بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔محکمانہ ریکارڈ کے مطابق ایک طرف 28 مئی 2024 کو اربوں روپے کا ریفنڈ جاری کیا گیا جبکہ بعد ازاں 2 جولائی 2024 کے آرڈر کے ذریعے اسی رقم کو متنازع قرار دے دیا گیا، جس سے ریونیو کو مزید نقصان پہنچا اور معاملے کی سنگینی میں اضافہ ہوا۔اس کیس میں اس وقت کے کمشنر لاہور شبیع اللہ اعجاز کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا، جنہوں نے 3 جون 2025 کو اپنی تفصیلی رپورٹ میں تمام الزامات ثابت قرار دیتے ہوئے ملزمہ کو ملازمت سے برطرف کرنے اور بڑی سزا دینے کی سفارش کی۔ بعد ازاں 30 جون 2025 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس پر ملزمہ نے 8 اگست 2025 کو جواب جمع کراتے ہوئے الزامات کی تردید کی اور ذاتی سماعت کی درخواست کی۔ذرائع کے مطابق سماعت کے لیے پہلے عقیل احمد صدیقی ڈائریکٹر جنرل کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا انھوں نے شیرازہ حمید کی ملازمت سے برطرفی کی سزا تجویز کی جس پر شیرازہ حمید نے عدم اعتماد کا اظہار کیا جس پر ڈاکٹر اشتیاق احمد، ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد کو انکوائری آفیسر نامزد کیا گیا۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد نے انکوائری مکمل کر کے تمام ریکارڈ 15 دسمبر 2025 کو حتمی فیصلے کے لیے مجاز اتھارٹی کو ارسال کر دیا گیا ہے۔انکوائری رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ شیرازہ حمید ناقابلِ قبول ریفنڈ کلیمز کی منظوری دینے والی مجاز اتھارٹی تھیں، اس لیے وہ اپنے تمام اقدامات کی براہِ راست ذمہ دار ہیں، اور ان کا طرزِ عمل بدعنوانی، سنگین غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، جسے ایف بی آر کی تاریخ کے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔







