بی زیڈ یو: ہائیکورٹ حکم کی تعمیل، جعلی تجربہ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر مظہر ایاز نااہل قرار

ملتان (سٹاف رپورٹر) چولستان یونیورسٹی کے غیر قانونی و عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر مظہر ایاز کے بارے میں بہاالدین زکریایونیورسٹی ملتان میں پروفیسر آف ویٹرنری سائنسز (پیتھوبائیولوجی) کی اسامی پر تقرری سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں وائس چانسلر نے تفصیلی سماعت اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد ڈاکٹر محمد مظہر ایاز کی نمائندگی مسترد کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا ہے۔ فیصلہ رِٹ پٹیشن نمبر 3527/2020 بعنوان ’’ڈاکٹر محمد مظہر ایاز بنام وائس چانسلر بی زیڈ یو و دیگر‘‘ کی روشنی میں جاری کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی نے 21 دسمبر 2017 کو اشتہار نمبر 04/2017 کے تحت فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز میں پروفیسر (BS-21/TTS) کی ایک مستقل اسامی مشتہر کی تھی جس کے لیے درخواستیں 12 فروری 2018 تک طلب کی گئی تھیں۔ اشتہار کے مطابق بی پی ایس کے تحت امیدوار کے لیے ایچ ای سی سے تسلیم شدہ ادارے سے پی ایچ ڈی، 15 سالہ تدریسی یا تحقیقی تجربہ اور کم از کم 15 تحقیقی اشاعتیں (جن میں پانچ گزشتہ پانچ برس میں) لازمی قرار دی گئی تھیں۔ اسی طرح ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت بھی پی ایچ ڈی کے ساتھ مخصوص مدت کا پوسٹ پی ایچ ڈی تجربہ اور 15 تحقیقی اشاعتوں کی شرط عائد تھی۔ ڈاکٹر محمد مظہر ایاز نے مذکورہ اسامی کے لیے درخواست جمع کرائی۔ 30 اپریل 2018 کو سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس میں ان کی درخواست کا جائزہ لیا گیا اور بعض ضروری دستاویزات کی کمی کے باعث ان سے اضافی ریکارڈ طلب کیا گیاجن میں ٹی ٹی ایس قواعد کے تحت استعفیٰ، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب سے تجربہ سرٹیفکیٹ، تحقیقی مقالہ جات اور پی وی ایم سی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ شامل تھے۔ یونیورسٹی کے مطابق درخواست گزار نے 28 جنوری 2019 کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیںجس پر 15 مارچ 2019 کے اجلاس میں سکروٹنی کمیٹی نے انہیں مشروط طور پر اہل قرار دیا، تاہم ان کے تجربہ سرٹیفکیٹ کی متعلقہ محکمہ سے تصدیق لازمی قرار دی گئی۔ اس سلسلے میں 8 اپریل 2019 کو سیکرٹری، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کو باضابطہ خط لکھا گیا تاکہ ڈاکٹر مظہر ایاز کے بطور ویٹرنری آفیسر خدمات کے تجربے کی تصدیق کی جا سکے۔ جواباً 10 جون 2019 کو محکمہ کے سیکشن آفیسر (HR-II) نے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ ڈاکٹر مظہر ایاز کے حق میں کوئی تجربہ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں 3 جنوری 2020 کو ایک اور خط کے ذریعے پہلے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے یونیورسٹی سے استفسار کیا گیا کہ مبینہ طور پر جعلی تجربہ سرٹیفکیٹ پیش کرنے کے معاملے پر کیا کارروائی کی گئی ہے۔ محکمہ کی جانب سے سرٹیفکیٹ کی تصدیق نہ ہونے پر سکروٹنی کمیٹی نے ڈاکٹر مظہر ایاز کو مطلوبہ تجربہ نہ ہونے کی بنیاد پر نااہل قرار دیتے ہوئے 13 فروری 2020 کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے 15 فروری 2020 کو اپنی اہلیت پر نظرثانی کے لیے نمائندگی جمع کرائی اور ساتھ ہی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ معزز عدالت نے 4 مارچ 2020 کو حکم دیا کہ وائس چانسلر درخواست گزار کی نمائندگی کو قانون کے مطابق، تمام متعلقہ فریقین کو سن کرایک ماہ کے اندر تحریری اور وجوہات پر مبنی فیصلے کے ذریعے نمٹائیں۔ عدالتی حکم کی تعمیل میں ڈاکٹر مظہر ایاز کو 22 اپریل 2020 کو ذاتی سماعت کا موقع دیا گیا۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر مظہر ایاز نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 26 سالہ پیشہ ورانہ تجربہ رکھتے ہیں، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور بعد ازاں بی زیڈ یو میں اسسٹنٹ پروفیسر (ٹینیورڈ) کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ تاہم ریکارڈ کے جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ انہوں نے ایک علیحدہ رِٹ پٹیشن میں خود یہ مؤقف اپنایا تھا کہ متعلقہ محکمہ نے انہیں مطلوبہ تجربہ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جس کے باعث وہ اہلیت کی شرط پوری نہیں کر پا رہے۔ وائس چانسلر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ جب متعلقہ محکمہ نے باضابطہ طور پر تجربہ سرٹیفکیٹ کے اجرا سے انکار کر دیا اور اس کی تحریری تصدیق بھی موجود ہے تو پیش کردہ سرٹیفکیٹ قابل قبول نہیں رہتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسی صورت میں امیدوار اہلیت کی بنیادی شرط پوری نہیں کرتا، لہٰذا انہیں پروفیسر آف ویٹرنری سائنسز (پیتھوبائیولوجی) کی اسامی کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے اور ان کی نمائندگی مسترد کی جاتی ہے۔ حکم میں ہدایت کی گئی ہے کہ فیصلہ فریقین کو ارسال کیا جائے اور مکمل ریکارڈ رجسٹرار آفس میں محفوظ کیا جائے۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق یہ فیصلہ عدالتی ہدایات، دستیاب ریکارڈ اور قانون کے تقاضوں کے مطابق جاری کیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں