ملتان ( وقائع نگار)بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پنجاب حکومت کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر متعدد افسران کو مبینہ طور پر غیرقانونی ٹائم سکیل پروموشنز دے دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نوٹیفکیشن نمبر PF/19(55) Legal/11/2010-1055 مورخہ 23 دسمبر 2011 (اسلام آباد) صرف وفاقی ملازمین پر لاگو ہوتا ہےنہ کہ پنجاب حکومت کے ماتحت اداروں کے ملازمین پر۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اسی نوٹیفکیشن کی بنیاد پر اپنے من پسند افسران کو فائدہ پہنچایا۔ لیٹر نمبر 193 مورخہ 5 جنوری 2024 کے تحت پرسنل سیکرٹری (بی ایس 17) کو ٹائم سکیل پروموشن دی گئی۔ مزید برآں 5 تا 6 ستمبر 2013 کی سنڈیکیٹ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے سینئر پرسنل سیکرٹری ٹو وائس چانسلر محمد امین زاہد، حاجی احمد اور شفیق الرحمٰن اسلم کو گریڈ 18 میں ترقی دی گئی۔ یہ پروموشنز قواعد کے منافی ہیں کیونکہ یونیورسٹی کے سٹیچو ز تاحال پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ نہیں۔ رجسٹرار آفس کے لیٹر نمبر 10471 مورخہ 4 نومبر 2013 کے ذریعے پے فکسیشن کے لیے خزانہ دار صہیب راشد نے ریزیڈنٹ آڈیٹر کو دستاویزات ارسال کیں۔ اس وقت کے ریزیڈنٹ آڈیٹر نے عارضی منظوری دیتے ہوئے تحریر کیا کہ ’’پے فکسیشن درست ہے، تاہم یہ منظوری مشروط ہے اور مجاز اتھارٹی کی حتمی منظوری اور بیرونی آڈیٹر کی توثیق سے مشروط ہوگی۔‘‘یہ قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے اور سابق وائس چانسلر نے سیکشن 16(3) کے تحت خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے منظوری دی جسے بعد ازاں توثیق کے لیے سنڈیکیٹ کو بھیجا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل سنڈیکیٹ اسی نوعیت کے ایک کیس کو مسترد کر چکی تھی۔ قواعد کے تحت سنڈیکیٹ کے مسترد کردہ کیس پر وائس چانسلر سیکشن 16(3) کا اطلاق نہیں کر سکتے اور نہ ہی اسے دوبارہ سنڈیکیٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں اپیل صرف گورنر/چانسلر کے پاس دائر کی جا سکتی ہے۔ حالیہ پروموشنز بھی اسی قانونی پیچیدگی کے باوجود جاری کی گئیں اور موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر اقبال کو اس عمل سے لاعلم رکھا گیا۔ مزید برآں رجسٹرار اعجاز احمد کے حوالے سے بھی تنازع سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی اختر رسول سمیت دیگر افراد کو نوازنے کے لیے مذکورہ وفاقی نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر گریڈ 18 میں ٹائم سکیل پروموشنز دیں۔ اعجاز احمد کی تقرری کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں اسے غیرقانونی قرار دیا تھاتاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نئی تقرری تاحال عمل میں نہیں لائی گئی۔یاد رہے کہ بی زیڈ یو میں ماضی میں بھی غیرقانونی تقرریوں اور پروموشنز کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ 2015 میں سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو لاہور سب کیمپس کے قیام سے متعلق کیس میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں بھی پروموشنز کے خلاف احتجاج اور عدالتی مداخلت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے بعض اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ادارے کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ ادھر پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







