بی زیڈ یو: طالبعلم خودکشی، ڈسپنسری غیر فعال، بختاور امین ہسپتال کو ٹھیکا، انتظامیہ خاموش

ملتان (وقائع نگار) بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے طالب علم کی خودکشی کے بعد ڈسپنسری کی غیرفعالیت پر سوالات اٹھنے لگے۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں زیرتعلیم طالب علم محمد ریاض کی خودکشی کے افسوسناک واقعے نے یونیورسٹی کی طبی سہولیات پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی ڈسپنسری کئی ماہ سے غیر فعال ہے نہ کوئی ڈاکٹر موجود ہے اور نہ ہی ایمرجنسی میں زندگی بچانے والی بنیادی ادویات دستیاب ہیں۔طالب علموں اور یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرڈسپنسری فعال ہوتی اور بروقت طبی امداد میسر ہوتی تو شائد محمد ریاض کی جان بچائی جا سکتی تھی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈسپنسری کا ٹھیکہ ملتان کے نجی بختاور امین میموریل ٹرسٹ ہسپتال کو دے رکھا ہےمگر ہسپتال انتظامیہ نے اب تک ڈسپنسری کو مکمل فعال نہیں کیا۔ طالب علموں کا الزام ہے کہ ٹھیکے کی شرائط کیا ہیںکتنی مدت کے لیے دیا گیا اور اس کی کیا مالیت ہے؟یہ سب کچھ یونیورسٹی انتظامیہ نے راز میں رکھا ہوا ہے اور کسی کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔دوسری جانب محمد ریاض کی لاش کو آبائی گاؤں لے جانے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی مالی یا لاجسٹک مدد فراہم نہیں کی۔ آخر کار شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر مرید حسین اور ڈاکٹر عبید اللہ نے ذاتی طور پر ایمبولینس کے اخراجات برداشت کیے۔ محمد ریاض کا کزن جو اسی یونیورسٹی کا طالب علم ہے لاش لے کر روانہ ہوا۔طالب علموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسپنسری فوری فعال کی جائے اور مستقل ڈاکٹر تعینات کیا جائے۔ بختاور امین ہسپتال کے ساتھ ٹھیکے کی تمام شرائط کو عوامی کیا جائے۔ طالب علموں کی نفسیاتی صحت کے لیے فوری کاؤنسلنگ سینٹر قائم کیا جائے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ اب تک یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں