بی زیڈ یو: سپریم کورٹ احکامات کی دھجیاں، برسوں سے “ریموٹ کنٹرول” عارضی افسران تعینات

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے نہایت ہی کم تدریسی تجربے کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی پالیسیوں نے ادارے کی ساکھ پر بڑے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ستمبر 2024 میں تعیناتی کے بعد ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی کے اہم ترین انتظامی عہدوںرجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولرپر مستقل تقرریاں عمل میں نہیں لائی جا سکیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تاخیر دانستہ ہے تاکہ ان عہدوں پر مستقل اور بااختیار افسران تعینات نہ ہوں جو میرٹ پر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اس کے برعکس عارضی افسران کے ذریعے من پسند فیصلے بآسانی کروائے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق اعجاز احمد گزشتہ سوا سال سے بطور رجسٹرار ایڈیشنل چارج پر فرائض انجام دے رہے ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے (کیس نمبر C.P. 7/ 24) کے پیرا 39(c) کے مطابق کسی بھی مستقل عہدے پر ایڈیشنل چارج چھ ماہ سے زائد نہیں دیا جا سکتا جبکہ اس کیس میں یہ مدت ڈیڑھ سال سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح کنٹرولر اور خزانچی کے عہدے بھی گزشتہ سات سال سے ایڈیشنل چارج پر چلائے جا رہے ہیںجو نہ صرف انتظامی کمزوری بلکہ ادارہ جاتی بدانتظامی کی واضح مثال قرار دی جا رہی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک عارضی تعیناتیاں ادارے کے نظم و نسق اور شفافیت کو شدید متاثر کرتی ہیں۔ مزید برآںانہی عارضی افسران کے ذریعے مبینہ طور پر متنازع سلیکشن بورڈز کا انعقاد بھی کیا گیا جن میں من پسند افراد کو پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدوں پر تعینات اور ترقی دی گئی۔ ذرائع کے مطابق عارضی حیثیت کے باعث متعلقہ افسران کھل کر مخالفت یا سوال اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں تھےجس سے مبینہ طور پر وائس چانسلر کو مکمل کنٹرول حاصل رہا۔ ایک اور متنازع معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے اعلیٰ فورم سنڈیکیٹ میں اپنے لیے نجی کلب کی ممبرشپ کی منظوری کا ایجنڈا پیش کیا جسے بعد ازاں میڈیا خصوصاً روزنامہ’’قوم‘‘کی نشاندہی پر خاموشی سے واپس لے لیا گیا۔ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، وائس چانسلر نے پنجاب حکومت کی واضح ہدایات کے برعکس فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی سے تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کی دو نئی گاڑیوں کی منظوری حاصل کی، حالانکہ حکومت پنجاب کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر سخت پابندی عائد ہے اور اس کے لیے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے پیشگی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔ اب سب سے اہم سوالات یہ اٹھ رہے ہیں کہ آخر بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اتنے طویل عرصے گزرنے کے باوجود ریگولر پرنسپل افسران تعینات کیوں نہ کر سکی؟ کیا یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس ان عہدوں کو مستقل بنیادوں پر پُر کرنے کا کوئی واضح منصوبہ موجود بھی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ ان اہم عہدوں پر مستقل تقرریاں آخر کب تک عمل میں لائی جائیں گی؟ مزید یہ کہ نہایت کم تدریسی تجربے کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کا واقعی ان پرنسپل افسران کو مستقل تعینات کرنے کا کوئی ارادہ بھی ہے یا نہیں؟ آخر قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کیوں کی جا رہی ہے؟ اور کیا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اس تمام صورتحال پر کوئی مؤثر نگرانی یا پوچھ گچھ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان سوالات کے بروقت اور شفاف جوابات نہ دیئےگئے تو یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے اور صوبے کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جامعہ زکریا: رجسٹرارکی بھائی اور ساتھیوں کو غیر قانونی ترقیاں، وی سی بے بس، آڈیٹر ڈٹ گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے نہایت ہی کم تدریسی تجربے کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری خود اپنے ہی تعینات کردہ متنازع اور غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کے اثر و رسوخ کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں قوانین کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے من پسند افسران کو نوازنے کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہےجس نے ادارے کے میرٹ، شفافیت اور ساکھ کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سوا سال سے زائد ایڈیشنل چارج پر عارضی تعینات رجسٹرار اعجاز احمد نے اپنے بھائی اختر رسول سمیت فیصل اکرام، طارق محمود، ذوالفقار علی نقوی، محمد عارف اور گل محمد شاہ کو غیر قانونی طریقے سے گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی دینے کی کوشش کی۔ حیران کن طور پر یہ تمام اقدامات نہ صرف متعلقہ قوانین بلکہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے بھی برعکس کیے گئےجبکہ وائس چانسلر نے اس سارے معاملے پر پراسرار خاموشی اختیار کر کے ان ترقیوں کی منظوری دے دی۔ یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آڈیٹر ظفر بلوچ نے اس معاملے میں غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ترقیوں کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا اور متعلقہ افسران کی تنخواہوں کی پے فکسیشن سے دوٹوک انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب تک تمام قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے اس اقدام کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو دبانے کے لیے یونیورسٹی آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر سمیت دیگر افسران نے آڈیٹر پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لائےجس کے بعد یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا۔ مزید انکشافات کے مطابق اس پورے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جن کی نشاندہی ریزیڈنٹ آڈیٹر نے بھی کر دی ہے۔ آڈٹ اعتراضات میں واضح کیا گیا ہے کہ فیڈرل حکومت کے ایک متنازع نوٹیفکیشن کو مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے اپنایا گیاحالانکہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایک صوبائی ادارہ ہے اور اس پر وفاقی احکامات اس وقت تک لاگو نہیں ہو سکتے جب تک حکومت پنجاب اور محکمہ خزانہ کی باقاعدہ منظوری حاصل نہ کی جائے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق گریڈ اپ گریڈیشن جیسے اہم فیصلے کے لیے نہ تو گورنر/چانسلر کی منظوری حاصل کی گئی اور نہ ہی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے اجازت لی گئی۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی منظوری کے بغیر تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے اختیارات کو بھی نظر انداز کیا گیا جو کہ اس نوعیت کے فیصلوں کی مجاز اتھارٹی ہوتی ہے۔ سروس سٹرکچر میں تبدیلی جیسے حساس معاملات کے لیے لازمی قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔ آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ اس پورے معاملے کو فوری طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سپرد کیا جائے اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے باضابطہ منظوری حاصل کیے بغیر کسی بھی اقدام کو آگے نہ بڑھایا جائے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر کے قریبی ساتھی اور سیکرٹری زاہد امین خود بھی ماضی میں اسی نوعیت کے متنازع طریقہ کار کے ذریعے مبینہ طور پر متنازعہ ترقی حاصل کر چکے ہیںجس سے اس پورے نظام میں مبینہ ملی بھگت کے شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی میں اس وقت شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، اساتذہ اور افسران کی بڑی تعداد اس صورتحال پر کھل کر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کافی عرصے سے منتظر ٹیچرز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسرز کے عہدوں پر پروموشنز روک چکے ہیں جن میں بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے صدر ڈاکٹر بنیامین بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری اور ان کے کماؤ پوت عارضی رجسٹرار اعجاز احمد کھل کر اپنے بھائی اور چند ملازمین کی کچھ ناقابل اشاعت وجوہات کی بنیاد پر پروموشنز کر چکے تھے مگر ریزیڈنٹ آڈیٹر کے اعتراض کے باعث یہ معاملہ وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری اور عارضی و غیر قانونی رجسٹرار اعجاز احمد کے پول کھول چکا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس معاملے کی شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو یہ بحران نہ صرف ادارے کی ساکھ بلکہ طلبہ کے مستقبل کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔ متعلقہ حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، گورنر پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور دیگر ذمہ دار اداروں سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس بارے میںموقف کیلئے رابطہ کرنےپر یونیورسٹی کے عارضی رجسٹرار اعجاز احمد نے کوئی جواب نہ دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں