ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اعلیٰ تعلیمی اقدار اور جمہوری روایات کو روندنے کا ایک اور سنگین منصوبہ منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ نہایت ہی کم تدریسی اور انتظامی تجربے کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے 6 فروری کو منتخب سینڈیکیٹ ممبران کی مدت پوری ہونے کے باوجود نئے انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ منتخب ٹیچر نمائندگان کے بغیر ہی سنڈیکیٹ کا کورم پورا کر کے من پسند فیصلے مسلط کیے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر آفس کی جانب سے دانستہ طور پر ایسا انتظام کیا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی کے اس اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم میں وہ اساتذہ شامل ہی نہ ہوں جو انتخابات کے ذریعے منتخب ہو کر آئے تھے اور جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران وائس چانسلر کو ہر غیر شفاف اور متنازع ایجنڈے پر سخت سوالات کا سامنا کروایا۔ یہی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ وائس چانسلر نےسینڈیکیٹ کے جمہوری کردار کو ہی ختم کرنے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سنڈیکیٹ اجلاسوں میں منتخب ممبران نے متعدد ایجنڈا آئٹمز پر کھل کر مخالفت کی، جن میں مالی بے ضابطگیاں، غیر ضروری اخراجات اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے معاملات شامل تھے۔ اسی دباؤ کے باعث ایک موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کو ٹیچر نمائندے کو یہ تلخ جملہ بھی کہنا پڑا کہ ’’آپ کو تو ہر سینڈیکیٹ ایجنڈے پر ہی اعتراض ہوتا ہے‘‘۔ اب صورتحال یہ ہے کہ منتخب سینڈیکیٹ ممبران کی غیر موجودگی میں وہ تمام متنازع فیصلے منظور کروانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جنہیں ماضی میںسینڈیکیٹ نے واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔ چند روز قبل فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی سے تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں کی خریداری کا وہی ایجنڈا دوبارہ فارورڈ کروایا گیا ہے جو گزشتہ سینڈیکیٹ نے یکسر رد کر دیا تھا۔ مزید حیران کن انکشاف یہ ہے کہ یونیورسٹی میں تحقیق کے فروغ کے نام پر چلنے والے ریسرچ پراجیکٹس میں سے 35 فیصد حصہ وائس چانسلر آفس کے لیے مختص کر لیا گیا ہےجس پر تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس اقدام کو تعلیمی وسائل کی کھلی بندربانٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کی بطور وائس چانسلر تعیناتی سے قبل یونیورسٹی سطح پر مجموعی تدریسی و انتظامی تجربہ محض ساڑھے چار سال تھا، جس پر پہلے ہی اساتذہ اور تعلیمی ماہرین سوال اٹھا چکے ہیں۔ ناقدین کے مطابق محدود تجربے کے باوجود اختیارات کا بے دریغ استعمال، منتخب فورمز کو غیر مؤثر بنانا اور جمہوری آوازوں کو دبانا یونیورسٹی کو شدید انتظامی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے چانسلر اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، سنڈیکیٹ کے شفاف انتخابات یقینی بنائیں اور یونیورسٹی کو شخصی آمریت کے بجائے قانون، قواعد اور جمہوری اصولوں کے تحت چلایا جائےبصورت دیگر اس کے نتائج نہ صرف ادارے بلکہ پورے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔






