بی زیڈ یو: بورڈ آف فیکلٹی کاہنگامہ خیز اجلاس، شعبہ جاتی انضمام پر شدید اختلافات

ملتان (سٹاف رپورٹر)بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے بورڈ آف فیکلٹی کا اہم مگر ہنگامہ خیز اجلاس منعقد ہوا جس میں شعبہ جاتی انضمام (Merger) اور ر ی سٹرکچرنگکے معاملے پر شدید اختلافات، تلخ جملوں کا تبادلہ اور انتظامیہ و اساتذہ کے درمیان واضح خلیج سامنے آ گئی۔ اجلاس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے کی جنہوں نے گزشتہ اجلاس میں طے پانے والے انضمامی فارمولے سے انحراف پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بعض شعبہ جات کے اساتذہ پر انتظامیہ کو گمراہ کرنے اور اجلاس سبوتاژ کرنے کے الزامات عائد کیے۔ وائس چانسلر نے واضح طور پر کہا کہ جب تک شعبہ سوشیالوجی، انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز اور شعبہ تاریخ کے اساتذہ کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہوتے، وہ اجلاس جاری نہیں رکھیں گے۔ اس اعلان کے بعد اجلاس عملاً تعطل کا شکار رہا اور مختلف گروپس ایک دوسرے کو قائل کرنے میں مصروف رہے۔ ذرائع کے مطابق اس دوران کئی مرتبہ اجلاس کو دانستہ طور پر غیر مؤثر بنانے کی کوششیں بھی کی گئیںجس سے یونیورسٹی میں پائی جانے والی انتظامی بدنظمی اور اعتماد کے فقدان کا کھل کر اظہار ہوا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے طویل اور تلخ مباحثے کے بعد بالآخر شعبہ جاتی انضمام اور فیکلٹی کی ر ی سٹرکچرنگ پر اتفاقِ رائے تو قائم ہو گیا، تاہم اختلافات کی شدت نے یہ واضح کر دیا کہ یہ فیصلہ وقتی ہے اور مستقبل میں مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ اجلاس میں طے پایا کہ فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کی ریسٹرکچرنگ کے تحت انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز میں پانچ پروگرامز (سوشیالوجی، سوشل سائنسز، اینتھروپالوجی، جینڈر اسٹڈیز اور کریمنالوجی) جبکہ سکول آف پولیٹکس میں چار پروگرامز (پولیٹیکل سائنس، پبلک ایڈمنسٹریشن، فلسفہ اور پاکستان اسٹڈیز) آفر کیے جائیں گے۔ اسی طرح ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ہسٹری میں آئی آر اور ہسٹری کے پروگرامز، جبکہ میڈیا اسٹڈیز میں ماس کمیونیکیشن اور لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنسز کے پروگرامز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم یہ بھی طے پایا کہ شعبہ سائیکالوجی، ایجوکیشن اور اکنامکس میں نئے پروگرامز تو متعارف کرائے جائیں گے مگر وہاں شعبہ جاتی انضمام نہیں ہو گاجبکہ شعبہ سپورٹس سائنسز اور جغرافیہ کا جداگانہ تشخص برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے پر شعبہ جینڈر اسٹڈیز، اینتھروپالوجی اور ہسٹری کے اساتذہ نے شدید احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ یہاں واضح طور پر پسند و ناپسند کا فارمولا اپنایا جا رہا ہے اور کچھ شعبہ جات کو بلا جواز تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ایک اور سنگین تنازع اس وقت کھڑا ہو گیا جب انضمام شدہ شعبہ جات کے اساتذہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ کسی دوسرے شعبے کے استاد کو چیئرمین یا ڈائریکٹر مقرر نہیں کیا جائے گا۔ شعبہ سوشیالوجی کے اساتذہ نے پاکستان اسٹڈیز کے پروفیسر کو انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز کا ڈائریکٹر بنانے کی صورت میں ایٹامک اسٹاف ایسوسی ایشن کی قیادت میں بھرپور احتجاج کی دھمکی دے دی۔ اسی طرح شعبہ پولیٹیکل سائنس کے ڈاکٹر مقرب اکبر نے بورڈ آف فیکلٹی کے روبرو واضح کیا کہ پاکستان اسٹڈیز کو محض اٹیچ پروگرام کے طور پر سکول آف پولیٹکس میں شامل کیا جائے اور چیئرمین شپ صرف پولیٹیکل سائنس کے اساتذہ کے پاس ہونی چاہیے۔ اجلاس کے اختتام پر وائس چانسلر نے نان پرفارمنگ شعبہ جات کی نشاندہی کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان اسٹڈیز، ہسٹری، سویلائزیشن، جینڈر اسٹڈیز، انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز اور فلسفہ گزشتہ چار سے چھ برس کے دوران داخلوں کے اہداف بری طرح حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور عملی طور پر یونیورسٹی پر بوجھ بن چکے ہیں۔ وی سی نے سخت لہجے میں کہا کہ ریسٹرکچرنگ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اساتذہ کو چیئرمین شپ اور ڈائریکٹر شپ کے خواب چھوڑ کر یونیورسٹی کے مالی و انتظامی حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا۔ آخر میں وائس چانسلر اور رجسٹرار نے اجلاس کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ ریسٹرکچرنگ پلان کو سنڈیکیٹ سے منظور کرا کے ریسورس مینجمنٹ کی جائے گی، تاکہ یونیورسٹی نان پرفارمنگ شعبہ جات کے بوجھ سے نکل سکے۔ تاہم اجلاس کے مجموعی ماحول اور شدید اختلافات نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ ریسٹرکچرنگ واقعی تعلیمی بہتری کے لیے ہے یا محض انتظامی دباؤ اور طاقت کے توازن کا نیا کھیل۔

شیئر کریں

:مزید خبریں